پبترا مارگریٹا نے ویتنام اور لاو پی ڈی آر کے دورے کے دوران ایکٹ ایسٹ پالیسی اور دو طرفہ شراکت داری پر زور دیا
نئی دہلی، 30 اگست (ہ س)۔ وزیر مملکت برائے امور خارجہ و ٹیکسٹائل پبترا مارگریٹا نے 29-26 اگست تک ویتنام اور لاوس کے اپنے چار روزہ سرکاری دورے کے دوران دو طرفہ تعاون اور ثقافتی روابط پر زور دیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد دونوں جنوب م
وزیر مملکت برائے امور خارجہ و ٹیکسٹائل پبترا مارگریٹا، فائل فوٹو


نئی دہلی، 30 اگست (ہ س)۔

وزیر مملکت برائے امور خارجہ و ٹیکسٹائل پبترا مارگریٹا نے 29-26 اگست تک ویتنام اور لاوس کے اپنے چار روزہ سرکاری دورے کے دوران دو طرفہ تعاون اور ثقافتی روابط پر زور دیا۔

وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کا مقصد دونوں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ ہندوستان کے سفارتی، ثقافتی، تجارتی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مستحکم کرنا تھا۔ دورے کے پہلے مرحلے میں ہنوئی پہنچے مارگریٹا نے ہو چی منہ یادگار پر گلہائے عقیدت پیش کر کے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ویتنام کے وزیر اعظم لے منہ ہنگ اور نیشنل اسمبلی کی دفاع، سیکورٹی و امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین سینئر لیفٹیننٹ جنرل لے ٹین توئی سے ملاقات کی۔ اعلیٰ سطحی میٹنگوں میں مئی 2026 میں ویتنام کے صدر تو لام کے دورۂ ہندوستان کے بعد دو طرفہ تعلقات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

مارگریٹا نے ویتنام اکیڈمی آف سوشل سائنسز (وی اے ایس ایس) میں کلیدی خطاب کیا اور وی اے ایس ایس کے صدر ڈاکٹر لے وان لوئی سے ملاقات کی۔ انہوں نے پھاپ وان پگوڈا کا دورہ کر کے ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے تحت شجر کاری کی۔

اس کے علاوہ وزیر مملکت نے ویتنام کی معروف ملبوسات ساز کمپنی ’گارکو 10 کارپوریشن‘ کا دورہ کیا نیز سیاحت اور ٹیکسٹائل کی صنعت کے نمائندوں سے تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے ہندوستانی برادری اور آئی ٹیک و آئی سی سی آر کے سابق طلبہ سے بات چیت کر کے تارکینِ وطن ہندوستانیوں کی فلاح و بہبود کے تئیں مرکزی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ دورے کا دوسرا مرحلہ (29-27 اگست) لاوس میں مکمل ہوا، جو دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہونے کی علامت رہا۔

دارالحکومت وینتیان میں وزیر موصوف نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ تھونگساون فومویہان، نائب وزیر اعظم و وزیر دفاع جنرل کھملیئنگ اوتھاکائیسون اور نائب وزیر خارجہ انوپارب وونگ نورکیو کے ساتھ جامع دو طرفہ بات چیت کی۔ انہوں نے ’’ہندوستان-لاو پی ڈی آر ایٹ 70‘‘ سیمینار سے خطاب کیا اور روایتی ’پھلاک-پھلام‘ (رامائن) رقص کے تحفظ نیز لاوس نیشنل آرٹس کالج کے توسیعی پروجیکٹ کا افتتاح کیا۔

لوانگ پرابانگ میں وزیر موصوف نے ’واٹ پا کھائے مندر‘ کے دیواری نقوش کے تحفظ سے متعلق ایم او یو کے تبادلے کا مشاہدہ کیا۔ ساتھ ہی، ماونٹ پھو سی پر واقع بودھی درخت اور رامائن تھیٹر جیسی ’کوئیک امپیکٹ پروجیکٹ‘ سائٹ کا دورہ کیا۔

وزیر موصوف کا یہ دورہ ہندوستان کی ’ایکٹ ایسٹ پالیسی‘ کے تئیں مسلسل وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس دورے نے آسیان کی مرکزیت اور ’انڈو-پیسیفک پر آسیان آوٹ لک‘ کے تحت ہندوستان-ویتنام اور ہندوستان-لاوس شراکت داری کو نئی جہتیں دی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande