جھیرم واقعے کی جواب دہی طے ہوگی، تب ہی وہ این آئی اے عدالت کے فیصلے سے مطمئن ہوں گے: ٹی ایس سنگھ دیو
جگدل پور، 30 اگست (ہ س): کانگریس کے سینئر رہنما اور چھتیس گڑھ کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ٹی ایس سنگھ دیو نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے خود جگدل پور پہنچ کر این آئی اے عدالت میں جھیرم معاملے میں اپنا بیان درج کرایا ہے۔
جھیرم واقعے کی جواب دہی طے ہوگی، تب ہی وہ این آئی اے عدالت کے فیصلے سے مطمئن ہوں گے: ٹی ایس سنگھ دیو


جگدل پور، 30 اگست (ہ س):

کانگریس کے سینئر رہنما اور چھتیس گڑھ کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ٹی ایس سنگھ دیو نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے خود جگدل پور پہنچ کر این آئی اے عدالت میں جھیرم معاملے میں اپنا بیان درج کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جھیرم وادی کے اس خوفناک واقعے کے چشم دید گواہ رہے ہیں اور انہوں نے اپنے بیان میں پورے واقعے کی آنکھوں دیکھی معلومات درج کرائی ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں واقعے کے دن سکیورٹی انتظامات سے متعلق کئی اہم نکات کا بھی ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھیرم وادی کے علاقے میں پولیس کی موجودگی انتہائی کم تھی اور راستے بھر کہیں بھی مناسب تعداد میں فورس تعینات نہیں کی گئی تھی۔ سنگھ دیو نے کہا کہ اگر ان کے بیان میں بتائی گئی یہ تمام باتیں تفتیشی رپورٹ میں سامنے آتی ہیں اور واقعے کی جواب دہی طے ہوتی ہے، تب ہی وہ این آئی اے عدالت کے فیصلے سے مطمئن ہوں گے۔

جھیرم وادی نکسلی حملے کے معاملے میں 31 اگست کو این آئی اے عدالت کے فیصلے پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ فیصلے سے عین قبل ٹی ایس سنگھ دیو کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب جھیرم وادی معاملے میں این آئی اے عدالت کے ممکنہ فیصلے کو لے کر سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کا بیان کسی سیاسی الزام تراشی کے لیے نہیں بلکہ واقعے کے دوران انہوں نے جو کچھ دیکھا، اسے تفتیشی ایجنسی کے سامنے رکھنے کے لیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جھیرم وادی حملے کی حقیقت سامنے آنا اور واقعے کے لیے ذمہ داری طے ہونا انتہائی ضروری ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande