
نئی دہلی، 30 اگست (ہ س)۔ دہلی حکومت نے اوکھلا، بھلسوا اور غازی پور کے فضلہ کے پہاڑوں کو ہٹانے کی سمت میں اہم پیش رفت کی ہے۔ ان تینوں لینڈ فل سائٹس پر اب تک تقریباً 2.16 کروڑ میٹرک ٹن کچرے کو پروسیس کیا جاچکا ہے اور مجموعی طور پر 100 ایکڑ زمین کو دوبارہ قابل استعمال بنایا گیا ہے۔ اس سے ان علاقوں کے آس پاس رہنے والے لوگوں کو بہتر اور صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے میں مدد ملی ہے۔
وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے اتوار کو جاری ایک بیان میں کہا کہ دہلی میں برسوں سے لوگوں کے سامنے کچرے کے پہاڑ ایک بڑا مسئلہ بنے ہوئے تھے۔ ان کی حکومت نے انہیں ہٹانے کا وعدہ کیا تھا اور اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے سائنسی روڈ میپ، عزم اور وقت مقرر کرکے کام کرنے کے طریقہ کار کے ساتھ کام کیا۔ حکومت نے صرف موجودہ کچرے کے پہاڑوں کو ہٹانے پر توجہ نہیں دی بلکہ مستقبل میں ایسی صورت حال دوبارہ پیدا نہ ہو، اس کے لیے بھی پہلے سے تیاری کی جارہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ اوکھلا میں تقریباً 70 لاکھ میٹرک ٹن کچرے کو پروسیس کرکے 35 ایکڑ زمین کو دوبارہ قابل استعمال بنایا گیا ہے۔ وہیں بھلسوا میں تقریباً 102 لاکھ میٹرک ٹن کچرے کو پروسیس کرکے 45 ایکڑ زمین کو بحال کیا گیا ہے۔ اسی طرح غازی پور میں تقریباً 44 لاکھ میٹرک ٹن کچرے کی پروسیسنگ کی گئی اور 20 ایکڑ زمین کو دوبارہ قابل استعمال بنایا گیا ہے۔ اس طرح تینوں سائٹس پر مجموعی طور پر تقریباً 2.16 کروڑ میٹرک ٹن کچرے کی پروسیسنگ اور 100 ایکڑ زمین کی بحالی کی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کچرے کے پہاڑوں کو ہٹانے کا کام صرف کچرا صاف کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس سے ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کی زندگیوں پر بھی مثبت اثر پڑ رہا ہے۔ جو لوگ ان علاقوں سے روزانہ گزرتے ہیں، انہیں اب بہتر ماحول نظر آرہا ہے اور آس پاس رہنے والے لوگوں کے معیار زندگی میں بھی بہتری آرہی ہے۔ صاف ستھرا اور بہتر ماحول صحت مند طرز زندگی کو فروغ دے گا۔ دہلی جیسے ملک کے دارالحکومت میں اتنے بڑے پیمانے پر زمین کو کچرے کے پہاڑوں سے آزاد کرکے دوبارہ قابل استعمال بنانا ایک اہم کامیابی ہے۔ حکومت کا مقصد ان علاقوں کو مزید صاف ستھرا اور رہنے کے قابل بنانا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ غازی پور میں کچرے کی پروسیسنگ کے بعد نکلنے والے اِنرٹ میٹریل کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ اسے نشیبی علاقوں کو بھرنے اور سڑکوں کے نیچے بنیاد تیار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے کچرے کی سائنسی پروسیسنگ کے ساتھ ساتھ پروسیسنگ سے حاصل ہونے والے مواد کا استعمال بھی یقینی ہوا ہے۔ حکومت کا کام کرنے کا ماڈل صرف موجودہ مسئلے کا حل نکالنا نہیں بلکہ مستقبل کی ضروریات کے لیے بھی پہلے سے منصوبہ بندی کرنا ہے۔ اسی سمت میں دہلی میں چار نئے ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس قائم کرنے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان پلانٹس کے تیار ہونے کے بعد دہلی میں روزانہ پیدا ہونے والے کچرے کو اسی رفتار سے پروسیس کرنے کی سمت میں صلاحیت پیدا ہوگی، تاکہ کچرا مسلسل جمع ہوکر نئے کچرے کے پہاڑ کی شکل اختیار نہ کرے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ دہلی میں روزانہ جتنا کچرا پیدا ہو، اس کی روزانہ پروسیسنگ یقینی بنائی جائے۔ دہلی حکومت کی توجہ ہر طرح کے کچرے کے سائنسی انتظام پر ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موجودہ کچرے کے پہاڑوں کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں کچرے کے بہتر انتظام کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچہ بھی تیار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد دہلی کو صاف، صحت مند اور بہتر زندگی کے حالات والا شہر بنانا ہے۔ دہلی میں کچرے کے پہاڑوں کو ہٹانے کی سمت میں ہوئی یہ پیش رفت حکومت کے عزم اور وقت مقرر کرکے کام کرنے کے طریقہ کار کا نتیجہ ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد