جے پی این آئی سی سماج وادی پارٹی کی بدعنوانی کی زندہ یادگار ہے: یوگی آدتیہ ناتھ
جے پرکاش نارائن کے نام کی اس سے بڑی توہین نہیں ہو سکتی، عوام کے پیسے پر ڈکیتی کی چھوٹ نہیں: وزیر اعلیٰ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ہمراہ وزیر اعلیٰ یوگی نے کیا ویرانگنا اونتی بائی لودھی کے شاندار مجسمے کا افتتاح، گلہائے عقیدت بھی پیش کیے ذات پا
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ


جے پرکاش نارائن کے نام کی اس سے بڑی توہین نہیں ہو سکتی، عوام کے پیسے پر ڈکیتی کی چھوٹ نہیں: وزیر اعلیٰ

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ہمراہ وزیر اعلیٰ یوگی نے کیا ویرانگنا اونتی بائی لودھی کے شاندار مجسمے کا افتتاح، گلہائے عقیدت بھی پیش کیے

ذات پات کے نام پر سماج کو تقسیم کر رہی ہے ایس پی، ہم بٹیں گے نہیں تو کٹیں گے بھی نہیں: وزیر اعلیٰ یوگی

لکھنو، 30 اگست (ہ س)۔

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ لکھنو میں قائم جے پرکاش نارائن انٹرنیشنل سینٹر (جے پی این آئی سی) سماج وادی پارٹی کی بدعنوانی کی زندہ یادگار ہے۔ ایس پی نے اسے اپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کا اڈہ بنا دیا تھا۔ کسی عظیم شخصیت کے نام کی اس سے بڑی توہین نہیں ہو سکتی۔ ریاستی حکومت جرائم اور مجرموں کے ساتھ ساتھ بددیانتی اور بدعنوانی کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ اتوار کے روز وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے ہمراہ ویرانگنا اونتی بائی لودھی کے شاندار مجسمے کی نقاب کشائی کے بعد عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے پوری زندگی وقف کرنے والے جے پرکاش نارائن کے نام پر ایس پی کے دورِ حکومت میں شروع کیے گئے اس پروجیکٹ کی لاگت 200 کروڑ روپے تھی، لیکن 864 کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود یہ نامکمل رہا۔ جس کام کو 18 ماہ میں مکمل ہونا تھا، وہ دو سال بعد بھی ادھورا تھا۔ سینٹر پر ایس پی کا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں اکھلیش یادو، ڈمپل یادو، دھرمیندر یادو، اکھلیش کے ذاتی معتمد اور ایس پی کے ترجمان راجیندر چودھری شامل تھے۔

وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ جے پی این آئی سی پر خرچ ہوئے 864 کروڑ روپے سیفئی سنڈیکیٹ کے نہیں بلکہ اتر پردیش کے عوام کے ہیں۔ عوام کے پیسے پر کسی سیاسی جماعت کو ڈکیتی ڈالنے کی چھوٹ نہیں دی جا سکتی۔ حکومت نے کمیٹی تحلیل کر کے اس سینٹر کو واپس لے لیا ہے۔ اب لکھنو ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی رہنمائی میں اسے چلا کر جے پرکاش نارائن کی یاد کو زندہ رکھا جائے گا۔ ساتھ ہی ریاستی خزانے سے خرچ ہونے والی رقم کی وصولی کی کوشش کی جائے گی۔ حکومت نے جن لوگوں کے ہاتھ سے خزانہ چھین لیا ہے، وہ اب بے بنیاد واویلا مچا رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پی ڈی اے کے نام پر سماج کو تقسیم کرنے والی ایس پی کے لوگوں نے کبھی عظیم شخصیات کا احترام تک نہیں کیا۔ سابق وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ کے انتقال پر ایس پی رہنماوں کے منہ سے تعزیت کا ایک لفظ نہیں نکلا، ایک ٹویٹ تک نہیں کیا۔ ایس پی فسادات کی بادشاہ ہے۔ کرفیو اس کی پہچان اور سرکاری خزانے میں لوٹ کھسوٹ اس کی عادت رہی ہے۔ خالی زمینوں پر سپائی غنڈوں کا قبضہ اور خواتین و بیٹیوں میں خوف و ہراس کا ماحول پچھلی حکومت کی سب سے بڑی پہچان رہا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج ڈبل انجن والی بی جے پی حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ وزیر اعظم جی کی رہنمائی میں شروع ہونے والا مشن شکتی خواتین کے تحفظ، وقار، خودداری اور خود کفالت سے وابستہ مہم ہے۔ جب بیٹی کو تحفظ ملتا ہے تو اس میں احساسِ تحفظ پیدا ہوتا ہے۔ عزت ملنے پر وہ اپنی زندگی کی سمت خود طے کرتی ہے اور جب اسے خود کفالت کے مواقع ملتے ہیں تو وہ اپنی رفتار کو ترقی میں بدلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔ آج زندگی کے ہر شعبے میں دکھائی دینے والی تبدیلی اسی بااختیار بنانے کا نتیجہ ہے۔ ہم بیمارو ریاست کی شناخت سے نکل کر ملک کی معیشت کا گروتھ انجن بنے ہیں۔

وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا کہ لکھنو میں واقع راشٹر پریرنا استھل قابلِ احترام اٹل بہاری واجپئی کی یاد سے منسوب ہے، جس کا افتتاح مودی جی نے کیا۔ یہاں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی، پنڈت دین دیال اپادھیائے اور اٹل بہاری واجپئی کے مجسمے ملک کے اتحاد، انتودیہ اور گڈ گورننس کی ترغیب دیتے ہیں۔ اسی طرح ویرانگنا اونتی بائی لودھی کا شاندار شہسواری مجسمہ ہندوستانی خاتون کے وقار، شجاعت اور عظمت کی علامت بن کر اہل وطن کے لیے مشعلِ راہ بنے گا۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اچھی حکومت ہی اچھے کام کرتی ہے۔ ایس پی حکومت کے دوران فسادیوں کے لیے قہر بننے والی پی اے سی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ بی جے پی حکومت نے پی اے سی کی تمام 54 کمپنیوں کو ازسرنو منظم کیا۔ ساتھ ہی یہ طے کیا کہ پی اے سی میں بیٹیاں بھی قیادت کا کردار ادا کریں گی۔ اسی سلسلے میں ریاست میں ویرانگناوں اودا دیوی، جھلکاری بائی اور اونتی بائی لودھی کے نام پر تین خواتین بٹالین تشکیل دی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک لکھنو، دوسری گورکھپور اور تیسری بدایوں میں تعمیر کے آخری مراحل میں ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گریجویشن کے آخری سال کی 50 ہزار بیٹیوں کو رانی لکشمی بائی کے نام پر اسکوٹی فراہم کی جائے گی۔ 27، 28 اور 29 اگست کو ہر بیٹی، بہن اور ماں کو ٹرانسپورٹ کارپوریشن اور سٹی بس سروس میں مفت سفر کی سہولت دی گئی۔ اب 60 سال سے زائد عمر کی ہر خاتون کے لیے کارپوریشن کی بسوں میں مفت سفر کی سہولت شروع کر دی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے چھتریہ لودھی مہاسبھا کے زیر اہتمام منعقدہ اس پروگرام کے منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سماجی اتحاد اور عظیم شخصیات کے نظریات کو آگے بڑھانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ویرانگنا اونتی بائی لودھی، امر شہید گلاب سنگھ لودھی اور محترم بابوجی کلیان سنگھ نے سماجی اتحاد کو تقویت بخشنے کے ساتھ ملک کو بھی مضبوط بنانے کا کام کیا۔ ان عظیم ہستیوں کے تئیں عقیدت و احترام کا جذبہ آنے والی نسلوں میں بھی زندہ رہے، اس کے لیے ہم سب کو اجتماعی کوششیں کرنی ہوں گی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے تمام لوگوں کو شری کرشن جنم اشٹمی کی پیشگی مبارکباد بھی پیش کی۔

پروگرام میں مرکزی وزیر بی ایل ورما، نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک، ریاستی حکومت کے کابینی وزیر دھرم پال سنگھ، وزیر مملکت برائے بنیادی تعلیم (آزادانہ چارج) سندیپ سنگھ اور لکھنو کی میئر سشما کھڑکوال سمیت بی جے پی کے عہدیداران، لودھی مہاسبھا کے نمائندے، اراکین اسمبلی اور بڑی تعداد میں سماج کے افراد موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande