امریکا نے ایران سے مذاکرات کی تردید کردی، اقتصادی دباؤ بڑھانے کا اعلان
واشنگٹن، 28 اگست(ہ س)۔ امریکا نے ایران کے ساتھ جاری کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فی الحال دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت نہیں ہو رہی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق مذاکرات اسی وقت دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ی
امریکا نے ایران سے مذاکرات کی تردید کردی، اقتصادی دباؤ بڑھانے کا اعلان


واشنگٹن، 28 اگست(ہ س)۔ امریکا نے ایران کے ساتھ جاری کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فی الحال دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت نہیں ہو رہی۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق مذاکرات اسی وقت دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین ہو جائے کہ ایران بامعنی مذاکرات کے لیے سنجیدگی سے تیار ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قطر، پاکستان اور عمان سمیت بعض ممالک ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم واشنگٹن نے فی الحال مذاکرات کی بحالی سے متعلق کسی پیش رفت کی تصدیق نہیں کی ہے۔وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد اب اقتصادی دباؤ کو اپنی حکمت عملی کا مرکزی حصہ بنا لیا ہے۔

لیوٹ کے مطابق امریکا نے ایرانی فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کیا، جبکہ اب ایرانی معیشت کو شدید دباؤ میں لانے کے لیے ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ شروع کیا گیا ہے۔ اس مہم کا مقصد ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنا اور اس کی آمدنی کے ذرائع پر دباؤ بڑھانا ہے۔امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پہلے ہی ایران سے متعلق درجنوں افراد، اداروں اور کاروباری نیٹ ورکس پر نئی پابندیوں کا اعلان کرچکے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے دیگر ممالک اور اداروں پر بھی مزید پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران کے معاملے میں تمام ممکنہ آپشنز کھلے رکھے ہیں۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کو مذاکرات کی میز پر سنجیدہ پیش رفت کے ساتھ آنا ہوگا، اس کے بعد ہی سفارتی راستہ دوبارہ کھلنے کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

امریکی حکمت عملی میں اب فوجی کارروائی کے مقابلے میں اقتصادی دباؤ کو زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس پالیسی سے ایران کے ساتھ کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

دوسری جانب قطر، پاکستان اور عمان ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ قطر کے وزیراعظم کا حالیہ دور? تہران بھی اسی سفارتی کوشش کا حصہ قرار دیا جارہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی مذاکرات کی راہ میں ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی معطلی اور واشنگٹن کی جانب سے نئی اقتصادی پابندیوں کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے، کیونکہ یہ عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔فی الحال دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کا کوئی نیا دور طے نہیں ہوا، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کے اعلانات نے سفارتی کوششوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande