


۔وزیر اعلی مان سے مذاکرات کی منسوخی کے بعد کشیدگی میں اضافہ، ملازمین کا پولیس سے ٹکراو، آئندہ ہفتے مذاکرات کی یقین دہانی
چنڈی گڑھ، 27 اگست (ہ س)۔پنجاب میں مختلف سرکاری ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے بلائی گئی ’مہا ہڑتال‘ کے باعث جمعرات کو ریاست بھر میں سرکاری کام متاثر ہوا۔ ملازمین زیر التوا مہنگائی بھتہ (ڈی اے)، پرانی پنشن اسکیم کی بحالی اور دیگر مطالبات کو لے کر اجتماعی چھٹی پر رہے ۔ ملازمین تنظیموں کے مطابق ہڑتال میں تقریباً 3 لاکھ ملازمین نے حصہ لیا، جب کہ تقریباً 3.5 لاکھ پنشنرز نے بھی تحریک کی حمایت کی۔ 150 سے زائد ملازمین کی یونینیں اس تحریک کا حصہ بتائی جاتی ہیں۔
ہڑتال کی وجہ سے ریاستی سرکاری دفاتر، ضلع انتظامی دفاتر، تحصیل دفاتر اور مختلف محکموں میں معمول کے کام میں خلل پڑا۔ سرکاری ملازمین کے اجتماعی طور پر چھٹی پر جانے سے روزمرہ کے سرکاری کام کروانے پہنچے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی جگہوں پر، لوگوں کو اپنا کام کروانے کے لیے اگلی تاریخ یا محکمہ کے دوبارہ کھلنے کا انتظار کرنا پڑا۔ ملازمین تنظیموں نے واضح کیا تھا کہ ان کی تحریک صرف سرکاری ملازمین کے مطالبات تک محدود رہے گی اور سڑکوں کو بلاک کرنے یا نجی اداروں کو بند کرنے کی کوئی کال نہیں دی گئی۔
ہڑتال سے سرکاری صحت کی خدمات بھی متاثر ہوئیں۔ کئی سرکاری اسپتالوں میں آو¿ٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) کی خدمات متاثر ہوئیں۔ امرتسر کے گرو نانک دیو اسپتال اور ہوشیار پور میں ایک سرکاری صحت کی سہولت میں آو¿ٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ (او پی ڈی ) خدمات بند ہونے کی اطلاع ہے۔ تاہم،اسپتالوں میں ہنگامی خدمات، داخل مریضوں کی دیکھ بھال اور دیگر ضروری طبی خدمات جاری رہیں۔ اس سے شدید طور پر بیمار مریضوں اور ہنگامی حالات میں آنے والوں کے لیے صحت کی دیکھ بھال تک مسلسل رسائی حاصل ہوتی رہی ۔
ہڑتال کے باوجود پنجاب کی سرکاری بس سروس بڑی حد تک غیر متاثر رہی۔ سرکاری بسیں معمول کے مطابق چلتی ہیں، جس سے مسافروں کو کچھ راحت ملی۔ ملازمین نے روڈ ٹرانسپورٹ میں خلل نہ ڈالنے کا عزم بھی کیا تھا۔
مطالبات پر حکومت سے ٹکراو بڑھا
ملازمین کی یونین زیر التوا 18 فیصد ڈی اے کے اجرا ، پرانی پنشن اسکیم کی بحالی اور کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کے مطالبات میں کم از کم اجرت کا نفاذ، اے سی پی اسکیم کو بحال کرنا، 17 جولائی 2020 کے بعد بھرتی ہونے والے ملازمین کے پنجاب پے اسکیل کا فائدہ دینے اور مختلف الاو¿نسز سے متعلق ان کے مطالبات شامل ہیں۔
ملازمین تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں ان مطالبات کے حوالے سے حکومت کی جانب سے متعدد یقین دہانیاں مل چکی ہیں لیکن کوئی ٹھوس حل نہیں نکلا ہے۔ تنظیمیں زیر التوا ڈی اے کی ادائیگیوں سے متعلق پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے احکامات کا بھی حوالہ دے رہی ہیں۔
وزیر اعلی مان سے ملاقات منسوخ ہونے کے بعد تنازعہ بڑھا
مہا ہڑتال کے دوران جالندھر میں وزیر اعلی بھگونت مان اور ملازمین کے نمائندوں کے درمیان مجوزہ میٹنگ کو لے کر تعطل بھی پیدا ہو گیا۔ ملازمین کے نمائندوں پر مشتمل 16 رکنی وفد کو مذاکرات کے لیے تیار کیا گیا تاہم ملاقات سے قبل وزیر اعلیٰ نے بیان دیا کہ ہڑتال اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
اس سے ملازمین رہنماو¿ں میں ناراضگی بڑھ گئی ۔ ملازمین کی بڑی تعداد ڈپٹی کمشنر آفس کمپلیکس میں جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ پولیس نے انہیں باہر جانے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کمپلیکس کے مرکزی دروازے پربیریکیڈ کھڑی کر دیں۔ کچھ مظاہرین نے دیوار پھلانگ کر باہر نکلنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔
مہاہڑتال کا براہ راست اثر سرکاری دفاتر، انتظامی خدمات اور صحت عامہ کی کچھ خدمات پر پڑا۔ عام لوگوں کے روزمرہ کے سرکاری کام، دستاویزات کی کارروائی اور آوٹ پیشنٹ خدمات متاثر ہوئیں۔ حالانکہ، ایمرجنسی طبی خدمات اور سرکاری بس خدمات کے جاری رہنے سے ضروری خدمات کو مکمل طور پر متاثر ہونے سے بچایا گیا۔
فی الحال حکومت اور ملازمین یونینوں کے درمیان تعطل برقرار ہے۔ وزیراعلیٰ نے مذاکرات اگلے ہفتے تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا اگلی میٹنگ میں ڈی اے، پرانی پنشن اسکیم اور دیگر مطالبات کا کوئی ٹھوس حل نکلے گا یا ملازمین اپنا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد