
ممبئی ، 27 اگست (ہ س): انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ یعنی ای ڈی کے ممبئی زونل دفتر نے منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے ممبئی اور وڈودرا میں 7 رہائشی اور کاروباری مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی۔ یہ کارروائی پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ یعنی پی ایم ایل اے کے تحت بل پاور لمیٹڈ سے متعلق مبینہ قرض گھوٹالے کے معاملے میں کی گئی۔ کارروائی کے دوران 3 بینک لاکرز کی بھی تلاشی لی گئی۔
ای ڈی کے مطابق تلاشی کے دوران 43 لاکھ روپے نقد اور تقریباً 12 کروڑ روپے مالیت کے زیورات ضبط کیے گئے۔ اس کے علاوہ تقریباً 27 لاکھ روپے موجود 2 بینک کھاتوں اور 3 بینک لاکرز کو منجمد کر دیا گیا ہے۔ تفتیشی ایجنسی کو غیر منقولہ جائیداد، زمین اور مشینری سے متعلق دستاویزات کے ساتھ اکاؤنٹس کی کتابیں، لیجر اور ڈیجیٹل آلات سمیت متعدد قابل اعتراض دستاویزات بھی حاصل ہوئی ہیں۔
اس معاملے میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی شکایت کی بنیاد پر سی بی آئی دہلی کی جانب سے درج ایف آئی آر کے بعد ای ڈی نے تفتیش شروع کی تھی۔ اس سے قبل سی بی آئی نے بل پاور لمیٹڈ، کمپنی کے ڈائریکٹروں اور متعلقہ کمپنیوں کے خلاف 30 ستمبر 2024 کو چارج شیٹ داخل کی تھی۔
تفتیش کے مطابق بل پاور لمیٹڈ نے ایس بی آئی سے مختلف بینکنگ سہولیات کے تحت قرض حاصل کیا تھا۔ الزام ہے کہ اس کے بعد قرض کی رقم مبینہ طور پر دھوکہ دہی کے ذریعے دوسری جگہ منتقل کی گئی اور کھاتوں سے متعلق دستاویزات میں مبینہ طور پر رد و بدل کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں بینک کو تقریباً 160.55 کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا الزام ہے۔بل پاور لمیٹڈ ٹرانسفارمر لیمینیشن اور کور تیار کرنے کے کاروبار سے وابستہ کمپنی ہے۔ کمپنی کا انتظام راجندر کمار چودھری، سریش کمار چودھری اور نریش کمار چودھری کے پاس تھا۔
کمپنی کے ایس بی آئی کے ساتھ 2005 سے بینکنگ تعلقات تھے۔ بینک کی جانب سے کمپنی کو کیش کریڈٹ، ورکنگ کیپٹل ٹرم لون، فنڈڈ انٹرسٹ ٹرم لون، کارپوریٹ لون کے علاوہ بینک گارنٹی، لیٹر آف کریڈٹ اور فارن کرنسی ایکسپوژر جیسی نان فنڈ بیسڈ سہولیات بھی فراہم کی گئی تھیں۔ای ڈی کی تفتیش کے مطابق 18 اپریل 2012 کو کمپنی کا قرض کھاتہ این پی اے میں تبدیل ہوگیا تھا۔ اس وقت اصل بقایا رقم تقریباً 160.55 کروڑ روپے تھی۔
تفتیش کے دوران مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ بل پاور لمیٹڈ کچھ شیل اور جعلی کمپنیوں کے ساتھ لین دین کر رہی تھی۔ الزام ہے کہ ان کمپنیوں کا استعمال بینک سے حاصل شدہ رقم کو مختلف مقامات پر منتقل کرنے اور راؤنڈ ٹرپنگ کے لیے کیا گیا۔ای ڈی کے مطابق ان کمپنیوں کے نام پر مبینہ طور پر لیٹر آف کریڈٹ جاری کیے گئے اور اس کے لیے جعلی دستاویزات کو درست ظاہر کرکے بینک میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد یہ رقم چودھری خاندان کے ارکان یا ان کے ساتھیوں کے کنٹرول میں موجود مختلف کمپنیوں میں منتقل کیے جانے کا الزام ہے۔
تلاشی کے دوران تفتیشی ایجنسی کو جائیداد سے متعلق دستاویزات کے علاوہ مالی لین دین اور کمپنی کے کاروباری معاملات سے متعلق متعدد ریکارڈ بھی حاصل ہوئے ہیں۔ ای ڈی اب ضبط کیے گئے دستاویزات اور ڈیجیٹل آلات کی جانچ کر رہی ہے۔ اس کے ذریعے مبینہ رقم کی منتقلی کے پورے سلسلے اور منی لانڈرنگ سے متعلق معاملات کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے