
شملہ، 26 اگست (ہ س)۔
ہماچل پردیش میں مانسون کی سرگرمی برقرار ہے۔ ریاست کے کئی علاقوں میں بدھ کے روز بارش ہوئی۔ دارالحکومت شملہ میں بھی دوپہر کے بعد بارش ہوئی، جس کے باعث درجہ حرارت میں کمی آئی اور موسم سرد ہوگیا۔
محکمہ موسمیات نے 27 سے 31 اگست تک ریاست کے بیشتر علاقوں میں موسم خراب رہنے اور بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ اس مدت کے لیے کسی قسم کا الرٹ جاری نہیں کیا گیا ہے۔ محکمہ نے یکم ستمبر کو ریاست کے بیشتر علاقوں میں شدید بارش کا یلو الرٹ جاری کیا ہے۔ اس سے ستمبر کے آغاز میں ریاست میں تیز بارش ہونے کا امکان ہے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھی ریاست کے کچھ علاقوں میں شدید بارش ریکارڈ کی گئی۔ بلاسپور ضلع کے نینادیوی میں سب سے زیادہ 90 ملی میٹر بارش ہوئی۔ اولنڈا میں 70 ملی میٹر، کانگڑا میں 50 ملی میٹر جبکہ امب اور نانگل ڈیم میں 40، 40 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔
مسلسل بارش کے باعث کئی مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق بدھ کی شام تک ریاست میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 82 سڑکیں بند تھیں۔ اس کے علاوہ پانچ بجلی کے ٹرانسفارمر اور 13 پینے کے پانی کی اسکیمیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
سڑکیں بند ہونے سے سب سے زیادہ متاثر منڈی اور ک±لّو اضلاع ہیں۔ منڈی میں 37 اورکُلّو میں 20 سڑکیں بند ہیں۔ کانگڑا میں سات، سرمور میں پانچ، اونا میں چار اور شملہ میں تین سڑکیں مسدود ہیں۔
ہماچل پردیش میں اس سال مانسون نے 30 جون کو دستک دی تھی۔ اس کے بعد سے بارش اور اس سے متعلقہ حادثات میں اب تک 244 افراد ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ 389 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مانسون کے دوران 95 مکانات، 17 دکانیں اور 370 مویشی خانے مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں۔ 424 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔
ریاست میں مانسون کے دوران اب تک 1,176 کروڑ روپے کی املاک کا نقصان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس میں سب سے زیادہ نقصان محکمہ تعمیراتِ عامہ کو ہوا ہے۔ سڑکوں اور پلوں کے ٹوٹنے اور متاثر ہونے سے محکمہ تعمیراتِ عامہ کو اکیلے 890 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ