ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن بدستور موجود ہے: امریکی وزیرِ جنگ
واشنگٹن، 25 اگست(ہ س)۔ امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا آپشن ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کے ام
ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آپشن بدستور موجود ہے: امریکی وزیرِ جنگ


واشنگٹن، 25 اگست(ہ س)۔ امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا آپشن ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ تہران پر معاشی دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر فوجی کارروائی کے امکان کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہیگستھ نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز سمیت ایران کے کسی بھی علاقے میں ممکنہ فوجی کارروائی کے آپشن کو مسترد نہیں کر رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران موجودہ معاشی دباؤ کو زیادہ دیر تک برداشت کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا۔

امریکی وزیرِ جنگ کا یہ بیان وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے انکشاف کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ بیسنٹ نے ایران کے خلاف وسیع تر معاشی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن تہران کے نظام کو مالی وسائل فراہم کرنے والے ذرائع کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ان کے مطابق امریکہ ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے مزید الگ تھلگ کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔ انہوں نے دوسرے ممالک کو بھی خبردار کیا کہ جو حکومتیں امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ مالی معاملات جاری رکھیں گی، انہیں بھی امریکی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بیسنٹ نے کہا کہ ایران کے لیے منی لانڈرنگ میں سہولت کاری کرنے والے اداروں کو امریکی ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے باہر کیا جا سکتا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئی پابندیوں کا دائرہ ایران کی معیشت سے وابستہ کئی اہم شعبوں تک پھیلایا گیا ہے۔ ان میں ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور بحری جہاز رانی شامل ہیں۔واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایرانی حکومت اپنی معاشی سرگرمیوں اور آمدنی کے ذرائع کو برقرار رکھنے کے لیے ان شعبوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔

چینی بینکوں کے ایران کے ساتھ مالی لین دین پر ممکنہ امریکی پابندیوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو بیسنٹ نے کہا کہ امریکی پابندیوں سے کسی کو بھی استثنا حاصل نہیں ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایران سے مبینہ طور پر منسلک 60 افراد، اداروں اور بحری جہازوں کو نئی پابندیوں میں شامل کیا گیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق مذکورہ نیٹ ورکس ایران کو غیر قانونی خریداری کے ساتھ ساتھ تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی فروخت میں مدد فراہم کر رہے تھے۔ پابندیوں کی زد میں دو ایرانی ادارے بھی آئے ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے پاسداران انقلاب کو امریکی فوج اور خطے میں اس کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیوں میں معاونت فراہم کی۔اس کے علاوہ کسٹمز سے متعلق درمیانی اداروں، ایران کے مبینہ ’شیڈو فلیٹ‘ اور تیل و پیٹروکیمیکل تجارت سے وابستہ کمپنیوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزیر اقتصادیات علی مدنی زادہ نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی اقدامات پر ردعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تنازع کو تقریباً چھ ماہ گزر چکے ہیں۔ جنگ بندی اور مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت محدود ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے تہران پر آبنائے ہرمز میں عالمی بحری آمدورفت متاثر کرنے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔موجودہ صورتحال میں ایک جانب امریکہ ایران کے خلاف معاشی پابندیوں کا دائرہ وسیع کر رہا ہے، تو دوسری جانب فوجی کارروائی کے امکان کو بھی برقرار رکھے ہوئے ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande