صحافی ابھیشیک اپادھیائے کو بڑی راحت، روڈ ریج کیس میں گرفتاری پر سپریم کورٹ کی روک
نئی دہلی، 25 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے صحافی ابھیشیک اپادھیائے کو بڑی راحت دیتے ہوئے روڈ ریج کے ایک معاملے میں ان کے خلاف درج ایف آئی آر کی بنیاد پر گرفتاری پر روک لگا دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اتر پردیش پولیس کو ہدایت دی کہ
صحافی ابھیشیک اپادھیائے کو بڑی راحت، روڈ ریج کیس میں گرفتاری پر سپریم کورٹ کی روک


نئی دہلی، 25 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے صحافی ابھیشیک اپادھیائے کو بڑی راحت دیتے ہوئے روڈ ریج کے ایک معاملے میں ان کے خلاف درج ایف آئی آر کی بنیاد پر گرفتاری پر روک لگا دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اتر پردیش پولیس کو ہدایت دی کہ صحافی کو ایف آئی آر کی کاپی فراہم کی جائے۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 7 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

ابھیشیک اپادھیائے نے اپنی عرضی میں دعویٰ کیا ہے کہ روڈ ریج کے معاملے میں درج ایف آئی آر مبینہ طور پر بدلے کی نیت سے درج کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رام مندر کے چڑھاوے میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق رپورٹ سامنے لانے کے بعد اتر پردیش انتظامیہ کی جانب سے انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

صحافی کے مطابق انہوں نے رام مندر کے چڑھاوے سے متعلق رپورٹ کے علاوہ اتر پردیش کے ایک آئی اے ایس افسر سے متعلق بھی تحقیقاتی رپورٹ شائع کی تھی۔ اس رپورٹ میں بھدوہی میں 2023 کے دوران تقریباً 20 کروڑ روپے مالیت کی زرعی زمین کی خریداری سے متعلق معاملے کو اجاگر کیا گیا تھا۔

روڈ ریج کا یہ مقدمہ 18 اگست کو غازی آباد میں درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر ایک دو پہیہ گاڑی چلانے والے شخص کی شکایت پر درج ہوئی۔شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ ابھیشیک اپادھیائے کی گاڑی نے ان کی موٹر سائیکل کو پیچھے سے ٹکر ماری، جس کے بعد ان کے ساتھ مبینہ طور پر گالی گلوج بھی کی گئی۔پولیس نے اس معاملے میں ابھیشیک اپادھیائے کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔سپریم کورٹ کے تازہ حکم کے بعد فی الحال صحافی کی گرفتاری پر روک برقرار رہے گی، جبکہ عدالت 7 ستمبر کو معاملے کی مزید سماعت کرے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande