شبیر شاہ کو اسپتال یا عدالت لے جاتے وقت غیر ضروری طور پر ہتھکڑی نہ لگائی جائے : عدالت
جموں, 25 اگست (ہ س): جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت نے جیل حکام کو ہدایت دی ہے کہ علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کو کوٹ بھلوال سنٹرل جیل سے اسپتال یا عدالت لے جاتے وقت غیر ضروری طور پر ہتھکڑی نہ لگائی جائے۔ خصوصی جج این آئی اے عدالت جموں پریم ساگ
Shabir shah


جموں, 25 اگست (ہ س): جموں کی خصوصی این آئی اے عدالت نے جیل حکام کو ہدایت دی ہے کہ علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کو کوٹ بھلوال سنٹرل جیل سے اسپتال یا عدالت لے جاتے وقت غیر ضروری طور پر ہتھکڑی نہ لگائی جائے۔ خصوصی جج این آئی اے عدالت جموں پریم ساگر نے 18 اگست کو چار صفحات پر مشتمل حکم نامے میں یہ ہدایات شبیر احمد شاہ کی درخواست پر جاری کیں، جس میں انہوں نے اپنی عمر اور مختلف بیماریوں کے پیش نظر ہتھکڑی لگانے سے ہونے والے درد اور صحت کو لاحق خطرات کا حوالہ دیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے پیش کی گئی طبی رپورٹ کے مطابق شبیر احمد شاہ کو ماہر ڈاکٹروں سے علاج فراہم کیا جا رہا ہے اور ان کی صحت کے مطابق طبی سہولیات اور غذا بھی دی جا رہی ہے۔عدالت نے کہا کہ 74 سالہ شبیر احمد شاہ متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں، اس لیے ضرورت پڑنے پر جیل حکام انہیں ماہر ڈاکٹروں کے پاس لے جائیں۔ عدالت نے ساتھ ہی واضح کیا کہ جیل حکام جیل مینوئل کے ضابطوں کے مطابق انہیں اسپتال یا عدالت لے جائیں اور غیر ضروری ہتھکڑی لگانے سے گریز کریں، تاہم ان کی حفاظت کے لیے مناسب تعداد میں سیکورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں۔

شبیر احمد شاہ نے اپنی درخواست میں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، سروائیکل اور لمبر اسپونڈیلائٹس، دونوں جانب ہرنیا، اوسٹیو آرتھرائٹس اور دل کی شریانوں کی بیماری سمیت مختلف طبی مسائل کا ذکر کیا تھا۔این آئی اے نے وزارت داخلہ کی ہدایت پر اپریل میں 1996 کے ایک مقدمے کی تحقیقات اپنے ہاتھ میں لی تھیں۔ یہ مقدمہ ناز کراسنگ سری نگر میں ایک دہشت گرد کی آخری رسومات کے دوران ہجوم کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ اور تشدد سے متعلق ہے۔ این آئی اے نے 10 جولائی 2026 کو جموں کی خصوصی عدالت میں چارج شیٹ دائر کی تھی۔

شبیر احمد شاہ کے علاوہ دیگر علیحدگی پسند رہنماؤں میں شکیل احمد بخشی اور جاوید احمد میر شامل ہیں، اُن کو بھی اس مقدمے میں ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد یعقوب وکیل کو بھی ملزم بنایا گیا تھا، تاہم ان کی وفات کے بعد ان کے خلاف کارروائی ختم کر دی گئی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande