جموں کی این آئی اے عدالت نے دہشت گردے کے معاملے میں مکان کی ضبطی کی درخواست کو مسترد کیا
جموں کی این آئی اے عدالت نے دہشت گردے کے معاملے میں مکان کی ضبطی کی درخواست کو مسترد کیا جموں، 25 اگست (ہ س)۔ جموں کی این آئی اے عدالت نے سری نگر کے شالہ کدل دہشت گردی معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم ارہان رسول ڈار عرف ٹوٹا کی والدہ کے نام د
NIA


جموں کی این آئی اے عدالت نے دہشت گردے کے معاملے میں مکان کی ضبطی کی درخواست کو مسترد کیا

جموں، 25 اگست (ہ س)۔ جموں کی این آئی اے عدالت نے سری نگر کے شالہ کدل دہشت گردی معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے ملزم ارہان رسول ڈار عرف ٹوٹا کی والدہ کے نام درج مکان کو ضبط کرنے سے متعلق قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ یو اے پی اے کی دفعہ 33 کے تحت صرف ملزم کی جائیداد کو ضبط کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے جبکہ ایسی جائیداد جو ملزم کی ملکیت ہی نہ ہو، اسے ضبط نہیں کیا جا سکتا۔

این آئی اے نے سری نگر کے زونی مار علاقے میں واقع چھ مرلہ 116 مربع فٹ مکان کو ضبط کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ یہ مکان ملزم ارہان رسول ڈار کی والدہ کے نام پر درج ہے۔ ایجنسی کا کہنا تھا کہ مکان کو مبینہ طور پر دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی اور ہتھیار رکھنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔

این آئی اے کے مطابق ارہان رسول ڈار نے مبینہ طور پر مکان میں رکھے ہتھیار کی تصویر اپنے موبائل فون سے کھینچ کر شریک ملزم عادل منظور لنگو کو بھیجی تھی۔ بعد میں ملزم کے گھر سے وہ چٹائی بھی برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا جس پر ہتھیار رکھا گیا تھا۔ ایجنسی نے مزید بتایا کہ تصویر بھیجنے کے لیے استعمال ہونے والا موبائل فون ارہان رسول ڈار سے برآمد ہوا جبکہ ہتھیار شریک ملزم عادل منظور لنگو کے گھر سے برآمد کیے گئے۔

تاہم عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ مذکورہ مکان ارہان رسول ڈار کی ملکیت ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملزم کی منقولہ یا غیر منقولہ جائیداد کو مقدمے کے دوران ضبط کرنے کا اختیار عدالت کے پاس ہے لیکن کسی دوسرے شخص کی ملکیت والی جائیداد کو صرف اس بنیاد پر ضبط نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے انہی وجوہات کی بنیاد پر این آئی اے کی جانب سے مکان ضبط کرنے کی درخواست خارج کر دی۔

ہندوستھان سماچار

--------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande