
نئی دہلی، 25 اگست (ہ س)۔ ملک کے کئی معروف جیولری ہاؤسز کے لیے ہاتھ سے تیار زیورات بنانے اور صارفین کو اپنی ضرورت کے مطابق زیورات تیار کرانے کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی شنکیش جیولرز کے شیئرز نے منگل کو شیئر مارکیٹ میں مضبوط آغاز کیا، تاہم لسٹنگ کے بعد منافع وصولی کے سبب کمپنی کے شیئرز میں گراوٹ دیکھی گئی۔
آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئرز 93 روپے فی شیئر کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ منگل کو بی ایس ای پر کمپنی کی لسٹنگ 9.89 فیصد پریمیم کے ساتھ 102.20 روپے اور این ایس ای پر 11.08 فیصد پریمیم کے ساتھ 103.30 روپے پر ہوئی۔
لسٹنگ کے بعد خریداری میں تیزی کے باعث شیئر کی قیمت ابتدائی ایک گھنٹے میں بڑھ کر 111 روپے تک پہنچ گئی، لیکن اس کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع وصولی شروع ہونے کے نتیجے میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا۔ اس دوران شیئر کی قیمت گر کر 94.59 روپے تک آ گئی۔
دوپہر ایک بجے تک جاری کاروبار کے دوران خرید و فروخت کے درمیان کمپنی کا شیئر 96.53 روپے کی سطح پر کاروبار کر رہا تھا۔ اس طرح آئی پی او میں 93 روپے فی شیئر کے حساب سے سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کار فی شیئر 3.53 روپے یعنی تقریباً 3.80 فیصد کے منافع میں تھے۔
شنکیش جیولرز کا 367.18 کروڑ روپے کا آئی پی او 18 سے 20 اگست کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھولا گیا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے اوسط ردعمل ملا اور یہ مجموعی طور پر 2.80 گنا سبسکرائب ہوا۔کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرز (کیو آئی بی)کے لیے مختص حصہ 2.80 گنا، نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز (این آئی آئی) کا حصہ 5.68 گنا اور خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ 2.42 گنا سبسکرائب ہوا۔
آئی پی او کے تحت 5 روپے فی شیئر کی فیس ویلیو والے مجموعی طور پر 3,94,82,000 شیئرز فروخت کیے گئے۔ ان میں تقریباً 274 کروڑ روپے مالیت کے 2,94,82,000 نئے شیئرز شامل ہیں، جبکہ تقریباً 93 کروڑ روپے مالیت کے ایک کروڑ شیئرز آفر فار سیل (او ایف ایس) کے ذریعے فروخت کیے گئے۔کمپنی آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم کا استعمال اپنے پرانے قرض کو کم کرنے، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات پوری کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے کرے گی۔
کمپنی کے ای بی آئی ٹی ڈی اے میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مالی سال 2023-24 میں ای بی آئی ٹی ڈی اے 28.60 کروڑ روپے تھا، جو 2024-25 میں بڑھ کر 65.35 کروڑ روپے ہوگیا۔ مالی سال 2025-26 میں یہ مزید بڑھ کر 157.90 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔اس طرح کمپنی کے شیئر نے مارکیٹ میں پریمیم کے ساتھ مضبوط انٹری تو کی، لیکن لسٹنگ کے بعد منافع وصولی نے ابتدائی تیزی کو محدود کردیا اور آئی پی او سرمایہ کار فی الحال معمولی منافع میں برقرار رہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan