
نئی دہلی، 25 اگست (ہ س)۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (آئی آئی ٹی) دہلی کے ایم ایس سی طالب علم رشی کیش کی افسوسناک موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی غیر جانب دارانہ اور مقررہ مدت کے اندر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
کیجریوال نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ آئی آئی ٹی دہلی میں رشی کیش کی المناک موت کی خبر سے انہیں شدید صدمہ پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات مقررہ وقت میں مکمل ہونی چاہئیں اور طلبہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے تمام خدشات کا ازالہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران 65 سے زائد آئی آئی ٹی طلبہ نے خودکشی کی ہے، جو انتہائی تشویشناک صورت حال ہے۔ کیجریوال نے کہا کہ ملک کو آئی آئی ٹی کے تعلیمی معیار اور کامیابیوں پر فخر ہے، لیکن تعلیمی فضیلت کا معیار صرف رینک، گریڈ اور کیمپس پلیسمنٹ تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ ہر طالب علم کو ضرورت کے وقت مدد اور رہنمائی دستیاب ہو۔ طلبہ کو ایسا شخص یا نظام میسر ہونا چاہیے جو ان کی بات سن سکے اور مشکل حالات میں مدد طلب کرنے کے لیے انہیں محفوظ اور قابلِ اعتماد ماحول فراہم کرے۔کیجریوال نے کہا کہ اس پورے نظام کا ازسرنو جائزہ لینے اور جہاں ضرورت ہو وہاں اصلاحات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی طالب علم کو تنہائی، دباؤ یا مایوسی کے عالم میں بے سہارا نہیں چھوڑا جا سکتا۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی و جذباتی بہبود کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے جتنی تعلیم، تحقیق اور روزگار کے مواقع کو دی جاتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan