
نئی دہلی، 24 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے جَنتر منتر پر احتجاج کے دوران پولیس تشدد کے الزامات کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ اختیاراتی تحقیقاتی کمیٹی (ایچ پی ای سی) سے کہا ہے کہ وہ خاتون مظاہرین کے ساتھ ہوئے جنسی استحصال کی شکایات پر ترجیحی بنیاد پر کارروائی کرے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے یہ وضاحت اس وقت کی، جب سینئر وکیل شوبھا گپتا نے ان سے جَنتر منتر پر 20 جولائی کو ہوئے احتجاج کے دوران خواتین کے ساتھ جنسی استحصال اور چھیڑ چھاڑ کے الزامات پر ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی۔ سماعت کے دوران شوبھا گپتا نے ایک ایسا نظام وضع کرنے کی اپیل کی، جس کے ذریعے مبینہ متاثرین اپنی شکایات براہ راست تحقیقات کے لیے بھیج سکیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی مظاہرین کی جانب سے جنسی استحصال کی شکایات پر ترجیحی بنیاد پر کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے حکم کے مطابق کمیٹی سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کو ترجیحی بنیاد پر دیکھے اور فوری طور پر ایک عبوری رپورٹ پیش کرے۔
نئی عرضی میں 20 جولائی کے احتجاج کے دوران خواتین کے ساتھ جنسی استحصال اور چھیڑ چھاڑ کے الزامات پر ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر پھیلنے والی مبینہ حملوں کی رپورٹس اور بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے گپتا نے کہا کہ ان الزامات میں ایک خاتون کی کمر کے نیچے لاٹھی سے حملہ کیے جانے کی بات بھی شامل تھی۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد