طبی آلات کے ضوابط میں تبدیلی، آؤٹ سورس اسٹرلائزیشن کے لیے الگ لائسنس کی ضرورت ختم
نئی دہلی، 24 اگست (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے طبی آلات کے شعبے میں کاروبار کو آسان بنانے کے لیے طبی آلات ضوابط 2017 میں ترمیم کی ہے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد ضابطہ جاتی طریقۂ کار کو آسان بنانا، کام کاج کا بوجھ کم کرنا اور جدید طبی آلات کی ہندوستان میں تیز دس
طبی آلات کے ضوابط میں تبدیلی، آؤٹ سورس اسٹرلائزیشن کے لیے الگ لائسنس کی ضرورت ختم


نئی دہلی، 24 اگست (ہ س)۔ مرکزی حکومت نے طبی آلات کے شعبے میں کاروبار کو آسان بنانے کے لیے طبی آلات ضوابط 2017 میں ترمیم کی ہے۔ ان تبدیلیوں کا مقصد ضابطہ جاتی طریقۂ کار کو آسان بنانا، کام کاج کا بوجھ کم کرنا اور جدید طبی آلات کی ہندوستان میں تیز دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔

وزارت صحت و خاندانی بہبود نے پیر کو ایک بیان میں بتایا کہ ترمیم شدہ دفعات کے تحت ایسے مینوفیکچررز کو آؤٹ سورس اسٹرلائزیشن یعنی طبی آلات یا دیگر مواد کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے کسی بیرونی اور لائسنس یافتہ ایجنسی کی خدمات حاصل کرنے کی سرگرمی کے لیے الگ لائسنس لینے کی ضرورت نہیں ہوگی، جو اپنی مصنوعات کی اسٹرلائزیشن پہلے سے لائسنس یافتہ کسی دوسری سہولت میں کراتے ہیں۔

اس تبدیلی سے دوہرے لائسنسنگ کے عمل، انتظامی بوجھ، تعمیلی لاگت اور طریقۂ کار میں لگنے والے وقت میں کمی آنے کی توقع ہے۔ خاص طور پر ان مینوفیکچررز کو اس سے فائدہ ہوگا، جن کے پاس اپنی اسٹرلائزیشن کی سہولت نہیں ہے۔

ترمیم میں نئی لیبلنگ کی ضروریات کو نافذ کرنے کے لیے چھ ماہ کی عبوری مدت بھی دی گئی ہے۔ اس دوران مینوفیکچررز اپنی لیبلنگ، پیکیجنگ اور متعلقہ طریقۂ کار میں ضروری تبدیلیاں کر سکیں گے۔ وزارت نے ضوابط کی دفعہ 63 میں بھی تبدیلی کی ہے۔ اس کے تحت یورپی یونین (ای یو) کو تسلیم شدہ سخت ضابطہ جاتی دائرۂ اختیار کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے ای یو میں پہلے سے منظور شدہ اہل طبی آلات کو ہندوستان میں طبی جانچ سے متعلق ضروریات سے چھوٹ کا فائدہ مل سکے گا۔

اس فہرست میں پہلے امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور جاپان شامل تھے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں سے ہندوستان میں جدید اور اختراعی طبی آلات کی دستیابی تیز ہوگی، جبکہ معیار، حفاظت اور کارکردگی سے متعلق ضابطہ جاتی معیارات برقرار رکھے جائیں گے۔

وزارت کے مطابق، اصلاحات سے طبی آلات کی صنعت میں شفافیت، ضابطہ جاتی پیش گوئی اور مسابقت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ کاروبار کو آسان بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande