
کاٹھمنڈو، 24 اگست (ہ س)۔ نیپال کے مَیاگدی ضلع میں تعمیر کیا گیا طویل عرصے سے زیرتعمیر 40 میگاواٹ صلاحیت کا راہوگھاٹ ہائیڈرو پاور پروجیکٹ مکمل ہوگیا ہے۔ یہ منصوبہ بھارت کے ایکزم بینک کے رعایتی قرض، بھارت ہیوی الیکٹریکلز لمیٹڈ (بی ایچ ای ایل) کی تکنیکی معاونت اور بھارتی کمپنی جے پی ایسوسی ایٹس کے ذریعے تعمیر کیا گیا ہے۔
نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی کی ذیلی کمپنی رگھوگنگا ہائیڈرو پاور کے زیرِ انتظام اس منصوبے میں سول تعمیرات اور آلات کی تنصیب کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ اب منصوبہ بجلی کی پیداوار شروع کرنے سے قبل آخری آزمائشی مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔
منصوبے کے سول تعمیراتی کام کا ٹھیکہ بھارتی کمپنی جے پرکاش ایسوسی ایٹس (جے پی) نے نومبر 2017 میں تقریباً 6 ارب نیپالی روپے میں حاصل کیا تھا۔ منصوبے کو 45 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا، تاہم کورونا وبا، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور دریا سے حاصل ہونے والے تعمیراتی مواد کی قلت کے باعث کام میں تاخیر ہوئی۔ مقررہ مدت میں تعمیر مکمل نہ ہونے کے بعد ٹھیکے کی مدت میں کئی مرتبہ توسیع کی گئی۔
منصوبے کے الیکٹرو مکینیکل کام کے لیے بھارت ہیوی الیکٹریکلز لمیٹڈ (بی ایچ ای ایل) کے ساتھ تقریباً 10.29 ملین امریکی ڈالر کا معاہدہ کیا گیا تھا۔ منصوبے کے لیے بھارت کے ایکزِم بینک نے 67 ملین امریکی ڈالر کا رعایتی قرض فراہم کیا، جبکہ نیپال حکومت اور نیپال الیکٹریسٹی اتھارٹی نے بھی مشترکہ طور پر سرمایہ کاری کی ہے۔ منصوبے کو انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنٹریکٹ (ای پی سی) ماڈل کے تحت تیار کیا گیا ہے۔
راہوگھاٹ پروجیکٹ سے سالانہ تقریباً 24 کروڑ 5 لاکھ 93 ہزار 34 یونٹ بجلی پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔منصوبے کے منیجنگ ڈائریکٹر گنیش کے سی کے مطابق ڈیم، ڈی سینڈر، سرنگ اور سوئچ یارڈ کے تجرباتی ٹیسٹ کامیابی سے مکمل ہوچکے ہیں۔ 20 میگاواٹ کی ایک یونٹ کا ٹیسٹ بھی مکمل ہوگیا ہے، جبکہ دوسری 20 میگاواٹ کی یونٹ کی آزمائش شروع کردی گئی ہے۔کے سی نے بتایا کہ دونوں یونٹس کی آزمائش مکمل ہونے میں تقریباً ایک ہفتے سے 10 دن تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس کے بعد تجارتی بنیادوں پر بجلی کی پیداوار شروع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔راہوگھاٹ پروجیکٹ سے پیدا ہونے والی بجلی کو قومی گرڈ سے جوڑنے کے لیے کالی گنڈکی کوریڈور کے تحت 220 کے وی ڈبل سرکٹ دانا-کشما ٹرانسمیشن لائن میں ’لیلو‘ طریقے سے مربوط کیا جائے گا۔اس مقصد کے لیے ضروری چار ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر بھی مکمل ہوچکی ہے۔ منصوبے کے پاور ہاؤس احاطے میں تعمیر کیے گئے سوئچ یارڈ کا آپریشن بھی دو ماہ قبل شروع ہوچکا ہے۔
مَیگدی ضلع صنعت و تجارت یونین کے صدر سووِن شریشٹھ نے راہوگھاٹ پروجیکٹ کو ضلع میں پن بجلی کی ترقی کا ’گیٹ وے‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق راہوگھاٹ پروجیکٹ کی تعمیر شروع ہونے کے بعد مَیگدی میں شروع کیے گئے مزید 10 ہائیڈرو پاور پروجیکٹ بھی مکمل ہوچکے ہیں۔تقریباً دو دہائیوں سے زیرِ انتظار اس منصوبے کی تعمیر مکمل ہونے پر مَیگدی میں خوشی کی لہر ہے۔ منصوبے سے جلد بجلی کی پیداوار شروع ہونے کے بعد نیپال کے قومی بجلی نظام میں مزید 40 میگاواٹ بجلی شامل ہونے کی امید ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan