آبنائے ہرمز میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہاز ضبط کرے گا ایران: پی جی ایس اے
تہران، 24 اگست (ہ س)۔ ایران نے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی (پی جی ایس اے) نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو مستقبل م
آبنائے ہرمز میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہاز ضبط کرے گا ایران: پی جی ایس اے


تہران، 24 اگست (ہ س)۔ ایران نے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی (پی جی ایس اے) نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان پابندیوں میں جرمانہ، جہاز کو روکنا اور اسے ضبط کرنا شامل ہے۔

ایران کے بین الاقوامی نیوز نیٹ ورک پریس ٹی وی اور ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق پی جی ایس اے نے اتوار کو اپنے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں خلیج فارس سے سامان لانے لے جانے والی شپنگ کمپنیوں اور کارگو مالکان سے کہا ہے کہ وہ کسی بھی جہاز کو کرائے پر لینے سے قبل قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں(این سی وی) کی تازہ فہرست ضرور چیک کریں۔

ایرانی اتھارٹی نے کہا ہے کہ فہرست میں شامل جہازوں کے ساتھ تعاون کرنے والے دیگر جہازوں کو بھی فوری طور پر این سی وی فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ اس میں جہاز سے جہاز منتقلی (ایس ٹی ایس)، ٹرانس شپمنٹ اور اس نوعیت کی دیگر سرگرمیاں شامل ہیں۔پی جی ایس اے کے مطابق فہرست سے نام نکلوانے کے خواہش مند جہاز مالکان کو مناسب وجوہات کے ساتھ باضابطہ درخواست دینا ہوگی۔ اتھارٹی نے درخواست جمع کرانے کے لیے info@pgsa.ir ای میل کا طریقہ بھی بتایا ہے۔

ایران کا یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں پہلے ہی بحری آمدورفت بری طرح متاثر ہے۔ رائٹرز کے مطابق 23 اگست کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران صرف 89 مال بردار جہاز آبنائے ہرمز سے باہر نکلے جبکہ 103 جہاز اندر داخل ہوئے۔ یہ تعداد تنازع سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 90 فیصد کم سرگرمی کی عکاسی کرتی ہے۔بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) کے مطابق 21 اگست تک آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں 68 مصدقہ سمندری واقعات رپورٹ ہوچکے تھے، جن میں 19 ملاحوں کی جانیں گئیں۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اسی راستے سے خلیج فارس کے علاقے سے بڑی مقدار میں تیل اور گیس عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جہازوں کی آمدورفت پر کسی بھی قسم کی پابندی عالمی توانائی بازار اور سمندری نقل و حمل کی لاگت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ایران پہلے بھی واضح کرچکا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق اس کی شرائط اور سکیورٹی خدشات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگست میں تہران نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو معمول کے مطابق کھولنے کے لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی کوششیں بھی تعطل کا شکار ہیں۔جون میں پاکستان اور قطر کی ثالثی سے دونوں فریقوں کے درمیان ایک عبوری معاہدہ ہوا تھا، تاہم بعد میں اس پر عمل درآمد اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے اختلافات سامنے آگئے۔ 17 اگست کو اس معاہدے کی مدت ختم ہونے کے باوجود کوئی مستقل سمجھوتا نہیں ہوسکا۔ دوسری جانب آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت انتہائی کم ہونے کے باعث بڑی تعداد میں تجارتی جہاز خلیجی علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ایسے میں پی جی ایس اے کی تازہ وارننگ سے شپنگ کمپنیوں پر قواعد کی پابندی کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی تجارت کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال بھی گہری ہونے کا خدشہ ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande