امریکی صدر کے غیر متوقع رویے کے باعث محتاط رہنا پڑتا ہے : حکومتی ذرائع
نئی دہلی، 24 اگست (ہ س)۔ حکومت ہند کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ جون میں فرانس میں جی-7 سربراہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کے وقت وزارت خارجہ کی جانب سے میڈیا کے سوالات کا جواب نہ دینے کی درخواست امریکی صدر کے غیر
امریکی صدر کے غیر متوقع رویے کے باعث محتاط رہنا پڑتا ہے


نئی دہلی، 24 اگست (ہ س)۔ حکومت ہند کے ذرائع نے واضح کیا ہے کہ جون میں فرانس میں جی-7 سربراہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کے وقت وزارت خارجہ کی جانب سے میڈیا کے سوالات کا جواب نہ دینے کی درخواست امریکی صدر کے غیر متوقع رویے کے باعث اختیار کیا گیا ایک محتاط طریقۂ کار تھا۔

امریکی سفیر سرجیو گور کی جانب سے حال ہی میں اس سلسلے میں کیے گئے تبصروں پر میڈیا کے سوالات کے جواب میں حکومت کے اعلیٰ عہدیدار ذرائع نے کہا کہ وزارت خارجہ نے یہ درخواست ایک معیاری طریقۂ کار کے تحت کی تھی۔ ذرائع نے کہا کہ کسی بھی انتہائی اہم شخصیت (وی وی آئی پی) کے دورے سے قبل رہنماؤں کی عوامی موجودگی کے انتظامات پر تبادلۂ خیال کرنا معمول کا طریقۂ کار ہے۔ اس سلسلے میں ہندوستانی فریق نے ایسے دوروں کے لیے اپنے معیاری طریقۂ کار سے آگاہ کیا تھا۔ امریکی صدر سے ملاقات کے دوران وفود ان کے غیر متوقع رویے کے تئیں محتاط رہتے ہیں، جیسا کہ جنوبی افریقہ اور یوکرین کے صدور کے ساتھ ان کی بات چیت سے واضح ہوتا ہے۔ اسی لیے ہندوستان نے یہ محتاط رویہ اختیار کیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی سفیر سرجیو گور نے ایک میڈیا گفتگو کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ 17 جون کو فرانس میں جی-7 سربراہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ہندوستان کی وزارت خارجہ نے میڈیا سے بغیر سوال و جواب کے گفتگو کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم، سفیر کے مطابق ٹرمپ نے وزارت خارجہ کی درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے میڈیا کے سوالات کے جوابات دیے تھے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande