
نئی دہلی، 24 اگست (ہ س)۔
آدیواسی کانگریس کے صدر وکرانت بھوریا نے مدھیہ پردیش کے بالاگھاٹ میں غذائی قلت اور بیماریوں کے باعث 22 قبائلی بچوں کی موت اور مہاراشٹر کے گڑھ چرولی میں ہاسٹل میں سانپ کے کاٹنے سے تین قبائلی بچیوں کی موت کے معاملے میں حکومت پر لاپروائی کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے دونوں معاملات کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دینے، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنے اور تمام قبائلی ہاسٹلوں کا حفاظتی آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
بھوریا نے پیر کو یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بالاگھاٹ میں جن 22 بچوں کی موت ہوئی، وہ بیگا قبائلی برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ علاقے میں گزشتہ چھ ماہ سے گھر گھر پہنچنے والا غذائی پروگرام بند ہے اور قریب ترین پرائمری ہیلتھ سینٹر تقریباً 20 کلومیٹر دور ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکام کے مطابق علاقے میں 80 فیصد سے بھی کم ٹیکہ کاری ہوئی ہے۔ جنگلاتی حقوق قانون کے تحت ملنے والے پٹے بھی مسترد کیے جا چکے ہیں۔ بچوں کی موت کے بعد ہر خاندان کو صرف 20 ہزار روپے کی امداد دی گئی، جبکہ اس کا ذمہ دارحکومت کا سسٹم تھا۔
انہوں نے مدھیہ پردیش اسمبلی میں پوچھے گئے ایک سوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے مطابق غذائی قلت کے شکار بچوں کو روزانہ صرف 12 روپے کا غذائی پروگرام فراہم کیا جاتا ہے۔ قبائلی علاقوں میں اس اسکیم کے لیے الگ سے بجٹ کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔ شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کے بحالی مراکز میں علاج اور غذائیت پر بھی صرف 980 روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔
بھوریا نے کہا کہ مہاراشٹر کے گڑھ چرولی میں ایک قبائلی ہاسٹل میں سو رہی تین بچیوں کی سانپ کے کاٹنے سے موت ہو گئی۔ ہاسٹل میں بستروں کا انتظام نہیں تھا اور ایک کمرے میں 70 سے زیادہ بچیاں فرش پر سوتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں چھ بچیوں کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جن میں سے تین کی موت ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کے ہاسٹلوں میں گزشتہ دو برس کے دوران بچوں کی موت کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ انہوں نے ناسک میں قبائلی ہاسٹلوں کی صورتحال بہتر بنانے کے مطالبے کو لے کر جاری طلبہ کی تحریک کا بھی ذکر کیا۔
بھوریا نے دونوں معاملات کی خصوصی تحقیقات کرانے اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوری طور پر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمام قبائلی ہاسٹلوں کا حفاظتی آڈٹ کرایا جانا چاہیے، تاکہ اس طرح کے واقعات کی دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ