
نئی دہلی، 23 اگست(ہ س )۔
عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن اور اترپردیش کے انچارج سنجے سنگھ نے سرکاری پرائمری اسکولوں کے حوالے سے یوگی حکومت کا ایک عجیب و غریب کارنامہ بے نقاب کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جونپور میں پانچ پرائمری اسکول ہی چوری ہوگئے ہیں۔ ان میں پرائمری اسکول ڈھال گڑھ ٹولہ، مصیرپور، گگن ارجنی، اردو بازار اور باغ حاسین شامل ہیں۔ زمین پر نہ اسکول کا کوئی وجود ہے، نہ بچوں کا اور نہ ہی اساتذہ کا کوئی پتہ ہے۔ اس کے باوجود حکومت کاغذات میں انہیں فعال دکھا رہی ہے۔ انہوں نے یوپی حکومت اور بی جے پی کے لوگوں کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ان پانچ میں سے کوئی ایک اسکول تلاش کرکے دکھا دے، میں ایک لاکھ روپے انعام دوں گا۔عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن اور اترپردیش کے انچارج سنجے سنگھ نے کہا کہ آج میں یوگی حکومت کا ایک حیرت انگیز اور انوکھا معاملہ سامنے لایا ہوں۔ ابھی تک ہم ایسے اسکول دکھا رہے تھے جن کی عمارتیں موجود تھیں، لیکن ان کے اندر کچرا پڑا تھا، کچن اور بیت الخلاءکی حالت خراب تھی، جو کاغذات میں چل رہے تھے لیکن موقع پر نہیں چل رہے تھے۔ لیکن جونپور ضلع میں تو سرکاری اسکول ہی غائب ہوگیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یوپی حکومت کے یو-ڈائس پورٹل پر یہ اسکول آپریشنل دکھائے جا رہے ہیں اور ڈبل انجن کی حکومت کہہ رہی ہے کہ اسکول چل رہا ہے، لیکن یہاں تو عمارت کا ہی کوئی اتا پتا نہیں ہے۔ عام آدمی پارٹی یوگی حکومت اور بی جے پی کے لوگوں کو چیلنج دیتی ہے کہ ان پانچ اسکولوں میں سے کوئی ایک اسکول تلاش کرکے دکھا دیں۔ میں اسے تلاش کرنے والے کو ایک لاکھ روپے دوں گا۔ جونپور کے ان پانچ پرائمری اسکولوں کے نام پرائمری اسکول ڈھال گڑھ ٹولہ، پرائمری اسکول مصیرپور، کنیا کمپوزٹ اسکول گگن ارجنی، پرائمری اسکول اردو بازار اور پرائمری اسکول باغ حاسین ہیں۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ سٹی ایجوکیشن آفیسر کے خط میں ان پانچوں اسکولوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ یہ اسکول کرائے کی عمارتوں میں چل رہے تھے اور اب ان پر عمارت کے مالکان کا قبضہ کرا دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود اترپردیش حکومت کے آن لائن یو-ڈائس پورٹل پر مصیرپور پرائمری اسکول، کنیا کمپوزٹ اسکول گگن ارجنی، باغ حاسین اسکول، ڈھال گڑھ ٹولہ اسکول اور اردو بازار اسکول آپریشنل دکھائے جا رہے ہیں۔ یو-ڈائس پر یہ اسکول چل رہے ہیں، لیکن حقیقت میں نہ اسکول کا کوئی پتہ ہے، نہ بچوں کا اور نہ ہی اساتذہ کا۔ چندہ چوری، چڑھاوا چوری، زمین چوری اور چینی چوری سے لے کر اب اسکول چوری تک کا معاملہ سامنے آگیا ہے۔ پورے ملک میں شاید ہی ایسی مثال ملے گی جہاں پورا کا پورا اسکول ہی غائب ہوگیا ہو۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور ان کے بی ایس اے و دیگر افسران کہہ رہے ہیں کہ وہ ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ جب اسکول کی چوری ہو رہی ہے تو ایف آئی آر اسکول چرانے والے چوروں اور بدعنوان افسران کے خلاف ہونی چاہیے، نہ کہ ویڈیو بنانے والوں کے خلاف۔ میں اترپردیش کے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ ایسے تمام خستہ حال اسکولوں کے معاملے میں، اگر وہ دیہی علاقوں میں ہیں تو متعلقہ بلاک ایجوکیشن آفیسر اور بی ایس اے کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ جہاں ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) اس میں شامل ہیں، وہاں ڈی ایم کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے۔ سنجے سنگھ نے دو مثالیں دیتے ہوئے بتایا کہ عام آدمی پارٹی کی یوتھ ونگ کے ریاستی صدر پنکج سنگھ نے نوئیڈا جاکر اسکول کی خستہ حالی کی ویڈیو بنائی، لیکن اسکول کو درست کرنے کے بجائے پنکج سنگھ کے خلاف ہی ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ اسی طرح ہردوئی میں ہمارے کارکن فیروز صدیقی نے خستہ حال اسکول اور سڑکوں کی ویڈیو بنائی تو ہردوئی کے ڈی ایم نے ان کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔ جو لوگ مڈ ڈے میل کا پیسہ کھا رہے ہیں اور تعمیراتی کاموں میں گھوٹالے کر رہے ہیں، ان کے خلاف ایف آئی آر کرنے کے بجائے حکومت سچ سامنے لانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہی ہے۔ میں اترپردیش حکومت سے صاف کہنا چاہتا ہوں کہ آمریت سے کام نہیں چلے گا۔ کارروائی ان لوگوں کے خلاف ہونی چاہیے جنہوں نے اسکولوں اور مڈ ڈے میل کی یہ حالت بنائی ہے اور جنہوں نے اسکولوں کی چوری کی ہے۔ میں خود جونپور سمیت تین اضلاع میں مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دوں گا اور اگر ذمہ دار افراد کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تو میں دفعہ 156(3) کے تحت عدالت جاکر ذمہ دار افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کراوں گا۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ یوگی حکومت ایف آئی آر کا خوف دکھا کر یک طرفہ کارروائی نہیں کرسکتی۔ ایف آئی آر ان لوگوں کے خلاف ہونی چاہیے جنہوں نے اسکولوں کو برباد کیا ہے۔ افسران اور لیڈروں کے بچے ان اسکولوں میں نہیں پڑھتے بلکہ غریب اور دیہی علاقوں کے بچے پڑھتے ہیں، اسی لیے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا اور انہوں نے اسکولوں کو برباد کر رکھا ہے۔ ویڈیو بنانے اور اسے میڈیا کے سامنے پیش کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔ اس کے بعد سنجے سنگھ نے مزید تین صوبوں کی ویڈیوز دکھا کر بتایا کہ وزیراعلیٰ کے آپریشن کایاکلپ کی حقیقت کیا ہے اور اترپردیش کے پرائمری اسکول کس قدر خستہ حال ہیں۔ سنجے سنگھ نے مزید کہا کہ عام آدمی پارٹی پورے اترپردیش میں اسکول ٹھیک کرو مہم چلا رہی ہے۔ اب بی جے پی حکومت کو یا تو اترپردیش کے اسکول ٹھیک کرنے ہوں گے یا پھر عوام انہیں ٹھیک کرے گی۔ ہم کوئی بہت بڑا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں۔ جب بی جے پی حکومت سرمایہ داروں کے لیے ہزاروں، لاکھوں کروڑ روپے خرچ کرسکتی ہے تو اسے اترپردیش کے غریب بچوں کے لیے بھی کچھ رقم خرچ کرکے ان اسکولوں کو درست کرنا چاہیے۔ اسکولوں کی بدحالی کو سامنے لانے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ جونپور کے جن پانچ اسکولوں کا میں نے ذکر کیا ہے، ان کا کوئی اتا پتا نہیں ہے، نہ بچوں کا پتہ ہے اور نہ ہی اساتذہ کا۔ کوئی ان اسکولوں کو تلاش کرکے دکھا دے تو میں نے اپنی جانب سے ایک لاکھ روپے کا انعام اعلان کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais