
نئی دہلی، 23 اگست(ہ س )۔
عام آدمی پارٹی نے محکمہ تعلیم کی جانب سے کی گئی جانچ رپورٹ میں ایس ایس موٹا سنگھ اسکول میں سامنے آنے والی متعدد خامیوں اور بے ضابطگیوں کے سلسلے میں اسکول انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے کئی سنگین غیر قانونی سرگرمیاں سامنے آئی ہیں، لیکن وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کی حکومت نے اسکول انتظامیہ کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی۔ انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اس معاملے میں کارروائی کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اسکول نے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (ڈی او ای) کو جنسی ہراسانی کے واقعے کی اطلاع نہیں دی، حالانکہ ایسا کرنا لازمی ہے۔ اسکول میں پرنسپل یا وائس پرنسپل بھی تعینات نہیں کیے گئے تھے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی منظوری کے بغیر اسکول کو ایک غیر قانونی رہائشی عمارت سے چلایا جا رہا تھا۔ تمام سی سی ٹی وی کیمرے خراب حالت میں رکھے گئے تھے اور انتظامیہ کو کئی ماہ سے اس کی اطلاع تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اساتذہ کے لیے لازمی پوکسو ٹریننگ بھی نہیں کرائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ انتظامیہ نے دھوکے سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ ان کا جونیئر اسکول سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے سوال کیا کہ تمام ضابطوں کی خلاف ورزیوں کے باوجود اسکول اور انتظامیہ کو بچانے کی کوشش کیوں کی گئی؟ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جب والدین اپنے بچوں کو کسی نجی اسکول میں بھیجتے ہیں تو وہ یہ سمجھ کر بھیجتے ہیں کہ بچوں کی حفاظت کی ذمہ داری اسکول کی ہے۔ میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ایس ایس موٹا سنگھ اسکول کے اندر جس طرح ایک بچی کے ساتھ حادثہ پیش آیا اور جس طرح حکومت اس اسکول کے دفاع میں نظر آئی، اس سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ حکومت کا اسکول سے کوئی تعلق ہے۔ پہلے ثبوت کم تھے، لیکن اب میرے پاس محکمہ تعلیم کی جانب سے تیار کردہ ایک سرکاری جانچ رپورٹ ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ اسکول کے اندر ایسی سنگین بے ضابطگیاں جاری تھیں جو براہِ راست چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ اور پوکسو قانون کی خلاف ورزی تھیں۔ اس کے باوجود یہ اسکول چلتا رہا اور آج تک حکومت یا محکمہ تعلیم نے اسکول انتظامیہ اور پرنسپل کے خلاف پوکسو کے تحت کوئی مقدمہ درج نہیں کیا۔ اس کا جواب محکمہ تعلیم کے وزیر آشیش سود اور ریکھا گپتا کو دینا چاہیے۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ رپورٹ میں کئی چونکا دینے والی باتیں سامنے آئی ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ یہ جونیئر اسکول ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی پیشگی اجازت یا منظوری کے بغیر ایک رہائشی عمارت سے چلایا جا رہا تھا اور اب تک ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوئی ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن قانون، پوکسو اور ڈی او ای کی ہدایات کے تحت یہ لازمی ہے کہ ایسے کسی بھی واقعے، بالخصوص جنسی ہراسانی، کی اطلاع ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کو دی جائے، لیکن اسکول کی جانب سے یہ اطلاع نہیں دی گئی۔ جب ہم نے اس معاملے کو زور سے اٹھایا، تب یہ معاملہ آگے بڑھا۔ یہ انتہائی حیران کن بات ہے کہ اس جونیئر اسکول میں کوئی پرنسپل یا وائس پرنسپل تعینات نہیں تھا۔ اس کے علاوہ اسکول کے 64 سی سی ٹی وی کیمرے کئی ماہ سے خراب تھے اور انتظامیہ کو اس کی اطلاع تھی، اس کے باوجود کوئی مینٹیننس کنٹریکٹ نہیں کیا گیا۔ یہ براہِ راست ضابطوں کی خلاف ورزی ہے، لیکن آشیش سود کے محکمہ نے مقدمہ درج نہیں کرایا۔ اسکول میں پینے کا پانی تک دستیاب نہیں تھا اور نرسری کے بچوں سے کہا جاتا تھا کہ وہ گھر سے پانی لے کر آئیں۔ معاملہ اٹھائے جانے کے بعد جب اسکول کو وجہ بتاو نوٹس جاری کیا گیا تو اسکول نے اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔سوربھ بھاردواج نے بتایا کہ اسکول میں مالی لین دین سے متعلق کئی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں اور اسکول بلاوجہ فیس میں اضافہ کرتا ہے۔ کسی بھی ٹیچر نے لازمی پوکسو یا چائلڈ سیفٹی ٹریننگ مکمل نہیں کی تھی اور اسکول میں کوئی چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی بھی تشکیل نہیں دی گئی تھی۔ اسکول میں صرف دو مرد ملازمین تھے، جن میں سے ایک جیل میں ہے، جبکہ دوسرے گارڈ کی پولیس ویری فکیشن تک نہیں کرائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ مین اسکول کی وائس پرنسپل نے مبینہ طور پر جعل سازی کرتے ہوئے تحریری طور پر دے دیا کہ ان کے مین اسکول کا اس جونیئر اسکول سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک سینئر اسکول جونیئر اسکول چلا رہا ہے اور اب پوری اسکول انتظامیہ اور وائس پرنسپل اس سے لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ان کا کوئی تعلق نہیں ہے تو ان کے اسکول کے ای ڈبلیو ایس بچے اس جونیئر اسکول میں کیوں بھیجے جاتے ہیں، تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ ان تمام خلاف ورزیوں کی جانچ رپورٹ میں تصدیق ہونے کے باوجود دہلی حکومت نے اب تک اسکول انتظامیہ کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا ہے۔ یہ سوچنے والی بات ہے کہ دہلی حکومت یا بی جے پی کا اس اسکول سے کیا تعلق ہے کہ حکومت کی جانب سے اس اسکول اور اس کی انتظامیہ کو بچانے کی اتنی بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais