سورہ بقرہ کی ابتدائی 22 آیات: ایمان، نفاق اور ہدایت کا جامع پیغام
لکشمی نگر جماعت اسلامی ہند یونٹ کے زیر اہتمام کڑکڑڈوما کورٹ مسجد میں درسِ قرآن فلاح الدین فلاحی نے سورہ بقرہ کی ابتدائی 22 آیات کی تشریح کرتے ہوئے ایمان، نفاق، ہدایت اور تقویٰ کے اہم پہلوو¿ں پر روشنی ڈالی نئی دہلی، 23 اگست(ہ س )۔ لکشمی نگر جماع
سورہ بقرہ کی ابتدائی 22 آیات: ایمان، نفاق اور ہدایت کا جامع پیغام


لکشمی نگر جماعت اسلامی ہند یونٹ کے زیر اہتمام کڑکڑڈوما کورٹ مسجد میں درسِ قرآن

فلاح الدین فلاحی نے سورہ بقرہ کی ابتدائی 22 آیات کی تشریح کرتے ہوئے ایمان، نفاق، ہدایت اور تقویٰ کے اہم پہلوو¿ں پر روشنی ڈالی

نئی دہلی، 23 اگست(ہ س )۔

لکشمی نگر جماعت اسلامی ہند یونٹ کے زیر اہتمام کڑکڑڈوما کورٹ مسجد میں ظہر کی نماز کے بعد درسِ قرآن کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں نمازی اور اہلِ علاقہ موجود تھے۔ درسِ قرآن میں جماعت اسلامی ہند کے امیرِ مقامی فلاح الدین فلاحی نے سورہ بقرہ کی آیت نمبر ایک سے 22 تک تفصیلی تشریح پیش کی۔

فلاح الدین فلاحی نے کہا کہ سورہ بقرہ مدنی سورت ہے اور اس میں ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں پیش آنے والے مختلف حالات، اہلِ کتاب، منافقین اور اہلِ ایمان کے رویوں کا تفصیلی ذکر ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کا بنیادی سابقہ مشرکین سے تھا اور وہاں کفر کے ماحول میں دعوتِ دین کا کام جاری تھا، جبکہ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کو اہلِ کتاب، بالخصوص یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی سابقہ پیش آیا۔

انہوں نے کہا کہ اہلِ کتاب اللہ، آخرت، فرشتوں اور انبیائے کرام علیہم السلام کو ماننے کا دعویٰ کرتے تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں کی تعلیمات پر عمل چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں ان کے اندر مختلف قسم کی خرابیاں پیدا ہوئیں۔ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کی ایک اسلامی بستی قائم ہوئی جہاں اہلِ ایمان جمع ہوئے اور آس پاس کے علاقوں میں دعوتِ دین کا کام شروع کیا گیا۔

درس کے دوران انہوں نے سورہبقرہ کی ان آیات کی روشنی میں منافقین کے کردار کو بھی واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ منافقین بظاہر مسلمانوں کے سامنے ایمان لانے کا اظہار کرتے تھے، لیکن اپنے سرداروں اور شیطان صفت لوگوں کے پاس جا کر کہتے تھے کہ ہم تو مسلمانوں سے محض مذاق کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اپنے نبیکو ان کے طرزِ عمل سے آگاہ فرمایا۔

فلاح الدین فلاحی نے بتایا کہ قرآن مجید منافقین کی اس ذہنی اور اخلاقی کیفیت کو واضح کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ان کے دلوں میں بیماری ہے اور اللہ تعالیٰ ان کی بیماری کو مزید بڑھاتا ہے۔ جب ان سے کہا جاتا کہ زمین میں فساد نہ پھیلاو¿ تو وہ اپنے آپ کو اصلاح کرنے والا قرار دیتے تھے، جبکہ قرآن واضح کرتا ہے کہ حقیقت میں فساد پھیلانے والے وہی لوگ ہیں، لیکن انہیں اس کا شعور نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب منافقین سے کہا جاتا کہ تم بھی اسی طرح ایمان لاو¿ جس طرح دوسرے اہلِ ایمان ایمان لائے ہیں تو وہ اہلِ ایمان کو بیوقوف سمجھتے تھے، جبکہ قرآن نے واضح کیا کہ حقیقی بیوقوف وہ خود ہیں، لیکن انہیں اس حقیقت کا علم نہیں۔ اہلِ ایمان سے ملاقات کے وقت ایمان کا دعویٰ اور اپنے سرکردہ لوگوں کے پاس جا کر مسلمانوں کا مذاق اڑانے کا اقرار ان کے دوغلے پن کی واضح مثال ہے۔

درس میں سور? بقرہ کی ان آیات میں بیان کردہ مثالوں کی بھی وضاحت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی کیفیت کو ایسے لوگوں سے تشبیہ دی جنہوں نے آگ جلائی، جب آگ نے ان کے اردگرد روشنی کردی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روشنی چھین لی اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا۔ اسی طرح بارش، اندھیری گھٹاو¿ں، گرج اور بجلی کی مثال کے ذریعے ان لوگوں کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو حق کی روشنی کو دیکھتے ہوئے بھی اس پر مستقل قدم نہیں جما پاتے۔

فلاح الدین فلاحی نے کہا کہ قرآن مجید انسان کو اس کے خالق کی طرف متوجہ کرتے ہوئے یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو انسان کے لیے فرش، آسمان کو چھت بنایا، آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے مختلف قسم کے پھل اور رزق پیدا کیے۔ اس کے باوجود انسان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہیں بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سورہ بقرہ کی ابتدائی آیات انسان کو ایمان، تقویٰ، توحید اور قرآن کی حقانیت کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

پروگرام میں تبلیغی جماعت کے امیرصاحب بھی موجود رہے اور پروگرام میں پیش پیش رہے۔ اس موقع پر مختلف دینی و اصلاحی سرگرمیوں سے وابستہ افراد اور بڑی تعداد میں نمازیوں نے شرکت کی۔

آخر میں اجتماعی دعا کے ساتھ پروگرام کا اختتام ہوا۔ دعا میں تمام دینی جماعتوں اور ان کی دینی و اصلاحی خدمات کی پذیرائی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ تمام دینی جماعتوں کی کوششوں کو قبول فرمائے، امتِ مسلمہ میں اتحاد و اتفاق پیدا کرے اور مسلمانوں کو موجودہ حالات میں صبر، استقامت اور صحیح دینی شعور عطا فرمائے۔ شرکاءنے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ظلم و ناانصافی کے تمام معاملات کو اپنے علم میں رکھتے ہوئے حق و انصاف کو غالب فرمائے اور امتِ مسلمہ کی مشکلات کو دور فرمائے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande