
نئی دہلی، 20 اگست (ہ س)۔ درجہ حرارت ناپنے والے سینسر، الیکٹرک ہیٹنگ اور خصوصی کیبل سلوشنز بنانے والی کمپنی ٹیمپ سینس انسٹرومنٹس (انڈیا) کا 650 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے لانچ کر دیا گیا۔ اس آئی پی او میں 24 اگست تک بولیاں لگائی جا سکتی ہیں۔ ایشو کی کلوزنگ کے بعد 25 اگست کو شیئروں کا الاٹمنٹ کیا جائے گا، جبکہ الاٹ کیے گئے حصص 27 اگست کو ڈیمیٹ اکاؤنٹ میں کریڈٹ کیے جائیں گے۔ کمپنی کے شیئر 28 اگست کو بی ایس ای اور این ایس ای پر لسٹ ہو سکتے ہیں۔ لانچنگ کے بعد پہلے آدھے گھنٹے میں ہی یہ آئی پی او مکمل طور پر سبسکرائب ہو گیا ۔ دوپہر12:50 بجے تک اس آئی پی او کو 3.05 گنا سبسکرپشن مل چکا تھا۔
اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے 285 روپے سے لے کر300 روپے فی حصص کاپرائس بینڈ مقرر کیا گیا ہے،جبکہ لاٹ سائز 50 شیئرز کاہے۔اس آئی پی او میں خوردہ سرمایہ کارکم از کم ایک لاٹ یعنی50شیئروں کے لئے بولی لگا سکتے ہیں، جس کے لئے انہیں 15,000 روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اسی طرح، خوردہ سرمایہ کار 195,000 روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ زیادہ سے زیادہ 13 لاٹس (650 شیئر) کے لیے بولی لگا سکتے ہیں۔ اس آئی پی او کے تحت کل 21,666,666 کروڑ کے حصص جاری کیے جا رہے ہیں۔ ان میں سے، تقریباً 95 کروڑ روپے کے 31,66,666 نئے حصص جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ تقریباً 555 کروڑ روپے کے 1,85,00,000 شیئرز آفر فار سیل ونڈو کے ذریعے فروخت کیے جا رہے ہیں۔
اس آئی پی او میں کوالیفائیڈ انسٹیٹیوشنل بائرز (کیو آئی بی) کے لیے49.88فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔ اسی طرح خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے 34.92 فیصد حصہ اور غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی ) کے لیے 14.97 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی کے ملازمین کے لئے 0.23 فیصد حصہ مختص کیا گیا ہے۔ اس ایشو کے لئے آئی سی آئی سی آئی سیکورٹیز لمیٹڈ کو بک رننگ لیڈ مینیجر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ کے فن ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کو رجسٹرار کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔
ٹیمپ سینس انسٹرومنٹس کی مالی حالت کے بارے میں بات کریں تو کیپٹل مارکیٹس ریگولیٹر سیبی کے پاس دائر کردہ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر پی ایچ ) کے مسودے میں کئے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی حالت مسلسل مضبوط رہی۔ مالی سال2023-24 میںکمپنی کا خالص منافع 40.92 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 62.56 کروڑ روپے ہو گیا۔ 2025-26 مالی سال میں، کمپنی کا خالص منافع 71.07 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی بتدریج اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023-24 میں، اس نے 278.04 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 382.47 کروڑ روپے ہو گئی۔ پچھلے مالی سال 26-2025 میں، کمپنی نے 455.86 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی تھی۔ اس عرصے کے دوران کمپنی کے قرضوں کے بوجھ میں بھی بتدریج اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 کے اختتام پر، کمپنی پر 30.13 کروڑ روپے قرض کا بوجھ تھا، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 71.83 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ پچھلے مالی سال 26-2025 میںکی بات کریں تو اس مالی سال کے دوران کمپنی کے قرض کا بوجھ 77.95 کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گیا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کے ریزرو اور سرپلس میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 کے اختتام پر، کمپنی کا ریزرو اور سرپلس 202.98 کروڑروپے تھا، جو مالی سال 25-2024 میں بڑھ کر 427.25 کروڑروپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 26-2025 میں، کمپنی کے ریزرو اور سرپلس 465.16 کروڑ روپے تک پہنچ گئے۔ اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 24-2023 میں، یہ 180.61 کروڑروپے تھی، جو 25-2024 میں بڑھ کر 430.63 کروڑروپے ہوگئی ۔گزشتہ مالی سال 26-2025 میں، کمپنی کی مجموعی مالیت 496.89 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
اسی طرح،ای بی آئی ٹی ڈی اے 24-2023 میں 61.13 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو 25-2024 میں بڑھ کر 97.32 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔گزشتہ مالی سال، 26-2025 میں، کمپنی کاای بی آئی ٹی ڈی اے1131.7 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد