


ایک ماہ قبل ہوئی تھی شادی، اہلیہ نے کانپتے ہاتھوں سے تھاما ترنگا
اندور، 02 اگست (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے شہر اندور کے لیے اتوار کا دن انتہائی غمگین رہا۔ راجستھان کے جیسلمیر میں ہوئے سڑک حادثے میں جان گنوانے والے شہر کے بہادر سپوت میجر حمزہ عارف کو پورے فوجی اور سرکاری اعزاز کے ساتھ ہزاروں لوگوں نے نم آنکھوں سے آخری وداعی دی۔ اس دوران حبِ وطنی کے پرجوش نعرے لگے۔
ایک ماہ قبل جس گھر میں شادی کی خوشیاں گونج رہی تھیں، وہاں اتوار کو ماتم چھایا ہوا تھا۔ ترنگے میں لپٹے میجر حمزہ عارف کے جسدِ خاکی کو دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ اہلیہ جیوتی ارورا کا درد، والدین کی خاموشی اور فوج کی آخری سلامی نے وہاں موجود ہر شخص کو غمزدہ کر دیا۔
راجستھان کے جیسلمیر میں ہوئے سڑک حادثے میں جان گنوانے والے میجر حمزہ عارف کا جسدِ خاکی اتوار کی صبح اندور کے سیفی نگر میں واقع ان کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ صبح سے ہی ان کی رہائش گاہ پر لوگوں کا تانتا لگا ہوا تھا۔ سب سے پہلے جسدِ خاکی کو آخری دیدار کے لیے رکھا گیا۔ صبح تقریباً نو بجے سیفی نگر میں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ اس کے بعد فوج کی گاڑی میں ترنگے میں لپٹا جسدِ خاکی آخری سفر کے لیے روانہ ہوا۔ ترنگے میں لپٹے تابوت کے ساتھ جنازہ سیفی نگر مسجد سے آگے بڑھا اور مانک باغ پل، کلکٹر چوراہا، راجباڑا اور صدر بازار سے ہوتا ہوا املی بازار میں واقع شیعہ داؤدی بوہرہ قبرستان پہنچا۔
راستے بھر لوگ اپنے گھروں اور دکانوں کے باہر کھڑے ہو کر میجر حمزہ عارف کو آخری سلام پیش کرتے رہے۔ راجباڑا پر بڑی تعداد میں لوگ پہلے سے موجود تھے۔ جیسے ہی فوج کی گاڑی وہاں پہنچی، پورا علاقہ ’بھارت ماتا کی جے‘ اور ’میجر حمزہ عارف امر رہیں‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ لوگوں نے ہاتھ جوڑ کر اور سلیوٹ کر کے اپنے بہادر سپوت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ قبرستان میں فوج کے جوانوں نے پورے فوجی اعزاز کے ساتھ گارڈ آف آنر دیا اور جسدِ خاکی پر گلہائے عقیدت نذر کر کے اپنے ساتھی اہلکار کو آخری سلامی دی۔ اس کے بعد مذہبی رسم و رواج کے مطابق انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔
آخری وداعی کا سب سے رقت انگیز لمحات تب آئے، جب اہلیہ جیوتی ارورا اپنے شوہر کو آخری خراجِ عقیدت پیش کرنے پہنچیں۔ کانپتے ہاتھوں سے انہوں نے ترنگے میں لپٹے جسدِ خاکی کو سلام کیا، لیکن خود پر قابو نہ رکھ سکیں اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیں۔ ان کی والدہ نے انہیں گلے لگا کر سنبھالا۔ گارڈ آف آنر کے بعد فوج کے حکام نے وہ ترنگا اہلیہ جیوتی ارورا کے سپرد کیا، جس میں لپٹ کر میجر حمزہ عارف اپنے گھر لوٹے تھے۔ انہوں نے ترنگے کو سینے سے لگا لیا۔
آخری سفر اور آخری رسومات میں راجستھان اور مدھیہ پردیش سے فوج کے کئی سینئر حکام پہنچے۔ کرنل، لیفٹیننٹ اور میجر رینک کے حکام کے ساتھ بڑی تعداد میں بوہرہ برادری کے لوگ، شہر کے باشندے، رشتہ دار اور دوست بھی موجود رہے۔ ہر کوئی اپنے بہادر بیٹے کو نم آنکھوں سے رخصت کرتا نظر آیا۔
اہلِ خانہ نے بتایا کہ میجر حمزہ عارف کی شادی تقریباً ایک ماہ قبل ہی ہوئی تھی۔ شادی کے بعد وہ کچھ دن کی چھٹی گزار کر واپس ڈیوٹی پر لوٹے تھے۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ نئی زندگی کی شروعات کے کچھ ہی دنوں بعد وہ ترنگے میں لپٹ کر گھر لوٹیں گے۔
قابلِ ذکر ہے کہ جمعرات کی دیر رات راجستھان کے ضلع جیسلمیر میں یہ حادثہ ہوا تھا۔ 31 سالہ میجر حمزہ عارف اپنے دو ساتھی اہلکاروں کے ساتھ ڈیوٹی پوری کر کے فوج کی ٹاٹا سفاری سے ملٹری اسٹیشن لوٹ رہے تھے۔ تھئیات ملٹری علاقے کے پاس اچانک ایک اونٹ سڑک پر آ گیا۔ گاڑی اونٹ سے ٹکرا کر بے قابو ہو گئی اور کئی بار پلٹتے ہوئے کافی دور تک گھسٹتی چلی گئی۔ حادثے میں میجر حمزہ عارف کی موقع پر ہی موت ہو گئی، جبکہ ان کے ساتھ موجود دو لیفٹیننٹ شدید زخمی ہو گئے۔ ان کا علاج ملٹری اسپتال میں جاری ہے۔ حادثے میں اونٹ کی بھی موت ہو گئی۔
میجر حمزہ کے اہل خانہ فوج کی خصوصی گاڑی میں جسدِ خاکی کو سڑک کے راستے لے کر ہفتہ کی صبح جیسلمیر سے نکلے تھے۔ دیر رات لاش اندور پہنچی۔ سب سے پہلے گاڑی مہو چھاونی پہنچی۔ وہاں میجر حمزہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بعد جسدِ خاکی کو ان کی رہائش گاہ پر لایا گیا۔ حمزہ عارف گزشتہ نو سال سے ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کے والد آر آر کیٹ سے ریٹائرڈ ہیں۔ خاندان میں والدین اور تین بہنیں ہیں۔ ان کی ناگہانی موت سے صرف خاندان ہی نہیں، بلکہ پورا اندور غم میں ڈوبا ہوا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن