
جموں، 17 اگست (ہ س)۔
نیشنل کانفرنس کی زیر قیادت حکومت کے خلاف بی جے پی نے پیرکو جموں میں بڑے پیمانے پراحتجاج کیا۔ جموں و کشمیر بی جے پی صدر ست شرما کی قیادت میں سینکڑوں کارکنوں نے مختلف مقامات سے احتجاجی مارچ نکالا اور حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے، بے روزگاری اور ترقیاتی مسائل حل کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔
بی جے پی کارکن ڈوگرا چوک، مہیش پورہ اور پنج تیرتھی میں جمع ہوئے اور شالیمار روڈ کے راستے سول سکریٹریٹ کی جانب مارچ کیا۔ احتجاج کی قیادت ست شرما کے علاوہ رکن پارلیمان جگل کشور شرما اور اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے کی۔ اس دوران کارکنوں نے نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد کے خلاف نعرے لگائے اور حکومت کے پتلے بھی نذر آتش کیے۔ ست شرما نے الزام عائد کیا کہ نیشنل کانفرنس حکومت عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے اور ریاستی حیثیت کے مسئلے کو اٹھا کر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی تعمیری حزب اختلاف کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے، تاہم اگر حکومت نے عوامی مسائل حل نہیں کیے تو احتجاجی تحریک کو مزید وسیع کیا جائے گا۔
رکن پارلیمان جگل کشور شرما نے حکومت پر سڑکوں، بجلی اور پینے کے پانی سمیت بنیادی سہولیات فراہم نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے اوراسے اپنی ناکامیوں کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ قائد حزب اختلاف سنیل شرما نے حکومت پر بدعنوانی، انتظامی ناکامی اور ناقص حکمرانی کے الزامات عائد کیے۔ رکن اسمبلی شام لال شرما نے جموں خطے کے ساتھ مبینہ امتیاز کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اسمبلی سے لے کر سڑکوں تک جواب دہ بنایا جائے گا۔
رکن اسمبلی وکرم رندھاوا نے بھی وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ بی جے پی مہیلا مورچہ کی صدر نیہا مہاجن نے نوجوانوں کے لیے روزگار، بے روزگاری کے خاتمے اور خواتین سے کیے گئے وعدوں پر حکومت سے جواب طلب کیا۔ احتجاج کے پیش نظر پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بڑی تعداد مارچ کے راستوں اور سول سکریٹریٹ کے اطراف تعینات رہی۔ بی جے پی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ عوامی مسائل حل نہ ہونے کی صورت میں احتجاج کو ضلعی، قصبہ اور مقامی سطح تک وسعت دی جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر