
چنگل پٹو، 16 اگست (ہ س)۔ چنگل پٹو ضلع کے کٹنکلاتھور میں ایس آر ایم یونیورسٹی کیمپس میں منعقدہ 22 ویں کنووکیشن میں نائب صدرجمہوریہ سی پی رادھا کرشنن نے طلباء کو ڈگریاں پیش کیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط، اچھے طرز عمل اور ذمہ داری کا احساس پیدا کریں اور ذاتی کامیابی کے ساتھ ملک کی ترقی میں اپنا تعاون دیں۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ آج ڈگری حاصل کرنے والے طلباء اس بات کا ثبوت ہیں کہ وکست بھارت کا ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنووکیشن صرف ڈگری حاصل کرنے کا موقع نہیں ہے بلکہ طلباءکے نظم و ضبط، کام کرنے کے انداز اور زندگی کے بارے میں جامع نقطہ نظر میں بھی ایک اہم سنگ میل ہے۔
کورونا وبا کے دوران ہندوستان کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے سی پی رادھا کرشنن نے کہا کہ ہندوستان میں تیار کردہ دوائیں دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچیں۔ وبائی مرض کے دوران ہندوستان کے دوا سازی اور طبی شعبے کے تعاون کو بہت سے ممالک نے سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کینیا کی پارلیمنٹ نے بھی ہندوستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ہندوستان نے وبائی مرض کے دوران نہ صرف اپنے شہریوں کی ضروریات کو پورا کیا بلکہ مختلف ممالک کو ضروری دوائیں بھی فراہم کیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان تیزی سے دنیا کی بڑی اقتصادی طاقتوں میں سے ایک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ بھارت، جو اقتصادی طور پر چوتھے نمبر پر ہے، جلد ہی تیسرے نمبر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ملک کو مستقبل میں دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ 2014 کے بعد ملک میں تعلیمی اور صحت کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع ہوئی ہے، جس میں تکنیکی تعلیمی ادارے، یونیورسٹیاں اور ایمس جیسے طبی ادارے شامل ہیں۔ ملک کے مستقبل کی ترقی اور تعمیر میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے طلباء سے کہا کہ وہ خود کو اپنی ذاتی ترقی تک محدود نہ رکھیں بلکہ ملک کی ترقی میں بھی فعال طور پر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ نصاب کے ذریعے تعلیم طلباء کو ڈگریاں دے سکتی ہے، لیکن زندگی میں مہارت حاصل کرنے کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط، اچھے طرز عمل اور ذمہ داری کا احساس بھی ضروری ہے۔
سی پی رادھا کرشنن نے نوجوانوں کو منشیات سے مکمل طور پر پرہیز کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ کالج کے طلبا میں منشیات کے استعمال کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔ نشے کی لت کسی بھی طرح سے نوجوانوں کے مستقبل کے لیے فائدہ مند نہیں ہے اور صحت اور زندگی پر سنگین منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ اچھے رویے اور مثبت عادات کو اپنائیں اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے مستقبل کی تعمیر کریں۔ ساتھ ہی ملک کے قوانین و ضوابط کا احترام کرتے ہوئے طرز عمل کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو معاشرے کی ترقی اور ملک کی ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
نائب صدر نے کنووکیشن میں شرکت کرنے والے والدین کو بھی مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی حمایت اور حوصلہ افزائی آج طلباءکی تعلیم اور ڈگری حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے انتھک محنت کرنے پر والدین کی تعریف کی۔
انہوں نے طلباءسے کہا کہ سیکھنے کا عمل کسی یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے کے ساتھ ختم نہیں ہونا چاہیے۔ زندگی بھر مسلسل سیکھنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ نئی چیزیں سیکھنے کے لیے وقف کریں۔
نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ طلباء نئی دریافتوں، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز یا ذاتی صلاحیتوں کی ترقی جیسے مضامین میں سے کسی ایک پر باقاعدگی سے سیکھ سکتے ہیں۔ مسلسل نیا علم حاصل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے سے وہ بدلتی ہوئی دنیا کے چیلنجوں کے لیے بہتر طور پر تیار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کنووکیشن میں ڈگری حاصل کرنے والے طلباءکو چاہیے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مستقبل میں ملک کی ترقی کے لیے استعمال کریں۔ ہندوستان کی ترقی میں نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ انفرادی کامیابی کے ساتھ ساتھ معاشرے اور قوم کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔
آخر میں نائب صدر نے کنووکیشن میں موجود تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی