
بھوپال، 16 اگست (ہ س)۔
یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے وزیر اعظم نریندر مودی کے خطاب میں مجاہدین آزادی کے کردار اور شراکت کے تذکرے کو لے کر بھوپال سے کانگریس کے رکن اسمبلی عارف مسعود نے اعتراض درج کرایا ہے۔
مسعود نے اتوار کے روز وزیر اعظم کو میمورنڈم بھیج کر کہا ہے کہ آزادی کی جنگ کسی ایک طبقے کی نہیں، بلکہ ملک کے تمام طبقات اور برادریوں کی مشترکہ جدوجہد تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم کے خطاب میں مسلم مجاہدین آزادی کا ذکر نہیں کیا گیا۔
عارف مسعود نے اتوار کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے میں مختلف طبقات کے لوگوں نے اہم کردار ادا کیا اور قربانیاں دیں۔ ایسے میں جنگ آزادی کے ذکر میں مسلم مجاہدین آزادی کے کردار کا تذکرہ بھی ہونا چاہیے تھا۔
میمورنڈم میں کانگریس رکن اسمبلی مسعود نے کہا کہ اگر وزیر اعظم انڈیا گیٹ پر واقع نیشنل وار میموریل یا انڈمان و نکوبار کی سیلولر جیل میں درج ناموں کو دیکھیں، تو وہاں مسلم مجاہدین آزادی کے نام بھی ملیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 1757 سے 1947 تک جاری رہنے والی جدوجہد آزادی سے وابستہ متعدد دستاویزات اور تاریخی ذرائع میں مسلم مجاہدین کے کردار کا مفصل ذکر ملتا ہے۔
مسعود نے اپنے میمورنڈم میں فقیر-سنیاسی بغاوت کی مثال دیتے ہوئے مجنو شاہ فقیر اور ان کے ساتھیوں کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق مجنو شاہ کے بعد موسیٰ شاہ، چراغ علی اور نور محمد نے بھی اس تحریک کو آگے بڑھایا۔
کانگریس رکن اسمبلی نے 1857 کی بغاوت کا ذکر کرتے ہوئے احمد اللہ شاہ مدراسی کو صف اول کا مجاہد آزادی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ احمد اللہ شاہ نے دہلی، پٹنہ، فیض آباد، کولکاتا اور ملک کے دیگر حصوں میں انگریزوں کے خلاف تحریک کے لیے کام کیا۔ مسعود نے میمورنڈم میں دعویٰ کیا کہ برطانوی حکومت نے احمد اللہ شاہ کو زندہ پکڑنے یا ان کا سر لانے والے کے لیے 50 ہزار روپے کے انعام کا اعلان کیا تھا۔
عارف مسعود نے 1857 کے بعد برطانوی حکومت کی جانب سے کی جانے والی ظالمانہ کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ ہڈسن اور کرنل نیل کے ذاتی مشاہدات و یادداشتوں نیز دیگر تاریخی ذرائع کا ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بغاوت کو کچلنے کے دوران بڑی تعداد میں لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے پھانسی دی گئی اور ان میں مسلم علماء بھی کثیر تعداد میں شامل تھے۔
میمورنڈم میں انہوں نے مورخین اور اس دور کے اخباری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے 1857 کے دوران الہ آباد اور آس پاس کے علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔
مسعود نے اپنے میمورنڈم میں دعویٰ کیا کہ 1859، 1860 اور 1861 کے دوران 51,200 افراد کو پھانسی دی گئی، جن میں 27 ہزار مسلم علماء شامل تھے۔ انہوں نے اس دعوے کی تائید میں سر جیمز آوٹرم، ایڈورڈ ٹائمز اور دیگر تاریخی ذرائع کا حوالہ دیا ہے۔
عارف مسعود نے کہا کہ تحریک آزادی ملک کا مشترکہ ورثہ ہے اور اسے کسی ایک طبقے تک محدود کر کے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے وزیر اعظم سے کہا کہ لال قلعہ کی فصیل سے دیے گئے خطاب میں مسلم مجاہدین آزادی کا ذکر نہ کیے جانے سے ان عظیم ہستیوں کے کردار کو نظر انداز کیا گیا ہے جنہوں نے ملک کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ مسعود نے وزیر اعظم سے اس معاملے میں ملک سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے جدوجہد آزادی میں تمام طبقات کے کردار کو یکساں طور پر یاد رکھے جانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن