نیپال میں ایل پی جی کی شدید قلت، گیس کی براہِ راست فروخت فوری طور پر روکنے کا مطالبہ
کھٹمنڈو، 16 اگست (ہ س)۔ نیپال میں کھانا پکانے والی گیس ۔ ایل پی جی کی قلت کے پیش نظر گیس فروخت کنندگان کی فیڈریشن نے حکومت سے صنعتوں اور مختلف ناموں سے چلنے والے فروخت مراکز کے ذریعے کی جانے والی گیس کی براہِ راست فروخت فوری طور پر روکنے کا مطالبہ
نیپال میں ایل پی جی کی شدید قلت، گیس کی براہِ راست فروخت فوری طور پر روکنے کا مطالبہ


کھٹمنڈو، 16 اگست (ہ س)۔ نیپال میں کھانا پکانے والی گیس ۔ ایل پی جی کی قلت کے پیش نظر گیس فروخت کنندگان کی فیڈریشن نے حکومت سے صنعتوں اور مختلف ناموں سے چلنے والے فروخت مراکز کے ذریعے کی جانے والی گیس کی براہِ راست فروخت فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فیڈریشن کا الزام ہے کہ متعلقہ ادارے، نیپال آئل کارپوریشن، وزارت تجارت اور حکومت اصل مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے صرف غیر ضروری تشہیر کر رہے ہیں۔

فیڈریشن کے صدر گیانیشور آریال نے کہا کہ مؤثر تقسیم کے نظام (فروخت کنندگان/ڈیلروں) کو ہٹا کر صنعتوں اور مختلف مراکز کے ذریعے ایل پی جی فروخت کرنے کے فیصلے سے بحران مزید سنگین ہو گیا ہے اور صارفین کو غیر ضروری پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے ایسی فروخت فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ایک طرف فروخت کنندگان کو گیس دستیاب نہیں کرائی جا رہی ہے اور دوسری طرف معائنے کے نام پر انہیں پریشان کیا جا رہا ہے، جس کے باعث بازار کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔

فیڈریشن نے حکومت، صنعتوں اور فروخت مراکز کے نام پر خود گیس فروخت کرنے اور معائنے کے نام پر عام فروخت کنندگان کو غیر ضروری طور پر پریشان کرنے کے حکومتی رویے پر شدید اعتراض کیا ہے۔ فیڈریشن نے حکومت سے فوری طور پر گیس صنعتوں اور مختلف ناموں سے چلنے والے فروخت مراکز کو بند کرکے صرف فروخت کنندگان کے ذریعے گیس کی فروخت اور تقسیم کا نظام بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔

فیڈریشن کا دعویٰ ہے کہ ڈیلروں کے ذریعے تقسیم کے نظام کو منظم کرنے سے ہی صارفین کی پریشانی ختم ہوگی اور اصل مسئلے کا حل ممکن ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ، فیڈریشن نے اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران تقریباً 60 ہزار ٹن کم گیس درآمد ہوئی ہے۔ فیڈریشن نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اب بھی نئے گیس سلنڈروں کی فروخت نہیں روکی گئی ہے۔ اگر اسے فوری طور پر قابو میں نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں گیس کی قلت کا مسئلہ مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande