امریکا سے مذاکرات ایران کی جارحانہ سفارتکاری کا حصہ ہیں: باقر قالیباف
تہران، 16 اگست(ہ س)۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایران کی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن سے ہونے والی بات چیت کو دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے جارحانہ سفارتکاری کے طور پر دیک
امریکا سے مذاکرات ایران کی جارحانہ سفارتکاری کا حصہ ہیں: باقر قالیباف


تہران، 16 اگست(ہ س)۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ایران کی حکمت عملی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران واشنگٹن سے ہونے والی بات چیت کو دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے جارحانہ سفارتکاری کے طور پر دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران نے اپنے اہم اسٹریٹجک مفادات کا بھرپور دفاع کیا۔قالیباف نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرکے ’’محورِ مزاحمت‘‘ کو تسلیم کیا۔ ان کے بقول ایران نے مذاکرات کے دوران ایسے کسی مطالبے کو قبول نہیں کیا جس سے اس کے میزائل پروگرام، جوہری سرگرمیوں یا علاقائی پالیسی پر سمجھوتہ ہوتا۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مطابق ٹرمپ چاہتے تھے کہ ایران میزائل اور جوہری پروگرام، محورِ مزاحمت اور آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے مؤقف کو مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کرے۔ تاہم قالیباف کا کہنا ہے کہ بات چیت کے نتیجے میں امریکا نے اسی رات آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کردی۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز کھول دے گا۔ قالیباف کے مطابق انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو ہدایت دی کہ امریکی صدر سے اپنا بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا جائے، بصورت دیگر ایران کی جانب سے حملے کا امکان موجود ہوگا۔

قالیباف نے دعویٰ کیا کہ اس انتباہ کے تقریباً 58 منٹ بعد ٹرمپ نے اپنے بیان کا دوسرا حصہ سوشل میڈیا سے ہٹا دیا۔ایرانی اسپیکر نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اسرائیل نے بیروت کے علاقے الضاحیہ پر حملہ کیا تو انہوں نے فوری طور پر جوابی کارروائی سے خبردار کیا تھا۔قالیباف کے مطابق اسرائیل کی جانب سے پورے خطے کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے باوجود ایرانی انتباہ کے بعد اسرائیل دوبارہ حملہ کرنے سے پیچھے ہٹ گیا۔انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے مذاکرات کا مقصد صرف بات چیت کرنا نہیں بلکہ سفارتی ذرائع کے ذریعے اپنے قومی مفادات کا تحفظ اور مخالف فریق پر سیاسی و سفارتی دباؤ برقرار رکھنا ہے۔ قالیباف نے واضح کیا کہ تہران سفارتکاری کو اپنی طاقت اور حکمت عملی کا ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande