جھارکھنڈ کے معدنیاتی حقوق کے معاملہ پرجے ایم ایم نے مرکزی حکومت کے خلاف مرچہ کھولا ، احتجاج کا انتباہ
مشرقی سنگھ بھوم، 16 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے مرکزی ترجمان اور سابق رکن اسمبلی کنال شاڑنگی نے جھارکھنڈ کے معدنی وسائل اور مالی حقوق کے معاملہ پر مرکزی حکومت پر زوردار حملہ کیا ہے۔ اتوار کو بشٹُوپور واقع پریسدن میں منعقدہ پریس
جھارکھنڈ کے معدنیاتی حقوق کے معاملہ پرجے ایم ایم نے مرکزی حکومت کے خلاف مرچہ کھولا ، احتجاج کا انتباہ


مشرقی سنگھ بھوم، 16 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کے مرکزی ترجمان اور سابق رکن اسمبلی کنال شاڑنگی نے جھارکھنڈ کے معدنی وسائل اور مالی حقوق کے معاملہ پر مرکزی حکومت پر زوردار حملہ کیا ہے۔ اتوار کو بشٹُوپور واقع پریسدن میں منعقدہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ کی سرزمین سے نکلنے والی معدنیات ملک کی صنعتی ترقی میں بڑا تعاون دیتی ہیں، لیکن کان کنی کے باعث ہونے والی مقامی باشندوں کی بے دخلی، آلودگی اور ماحولیاتی نقصانات کا خمیازہ ریاست کے عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں معدنیات سے ہونے والی آمدنی سے متعلق ریاست کے حقوق کو محدود کرنا جھارکھنڈ کے ساتھ معاشی ناانصافی ہے۔

کنال شاڑنگی نے کان کنی اور معدنیات کے وسائل کی ترقی سے متعلق ترمیمی قانون 2026 کے معاملہ پر مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ نئے بندو بست سے ریاستوں کی معدنیات سے مالا مال زمین پر ٹیکس، سیس اور دیگر محصولات عائد کرنے کے اختیارات مرکزی حکومت کے پاس جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ حکومت اس تبدیلی کی مخالفت کر رہی ہے اور وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین بھی مرکزی حکومت سے قانون پر نظرثانی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

انہوں نے جولائی 2024 میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معدنیات والی زمین کو زمین کے زمرے میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کے بعد جھارکھنڈ اسمبلی نے منرل بیئرنگ لینڈ سیس قانون منظور کیا۔ شاڑنگی نے کہا کہ ریاست کے آئینی حقوق اور مالی خودمختاری کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ معدنیات والی زمین پر سیس سے ریاست کو حاصل ہونے والی آمدنی جھارکھنڈ کی ترقی کے لیے اہم ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 25-2024 میں تقریباً 1,379 کروڑ روپے، 26-2025 میں تقریباً 7,488 کروڑ روپے اور 27-2026 میں تقریباً 13,215 کروڑ روپے کی آمدنی کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

اس رقم کا استعمال تعلیم، صحت، پینے کے پانی، دیہی ترقی، سماجی تحفظ اور کان کنی سے متاثرہ افراد کی بازآبادکاری میں کیا جا سکتا ہے۔

کنال شاڑنگی نے کہا کہ معدنی دولت جھارکھنڈ کی زمین سے نکلتی ہے، اس لیے اس سے متعلق اقتصادی فیصلوں میں ریاست کے مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ کان کنی کے باعث بے دخلی، آبی اور فضائی آلودگی، جنگلاتی علاقوں پر دباؤ اور مقامی بنیادی سہولیات پر اضافی بوجھ بڑھتا ہے۔ اس صورتحال میں معدنی آمدنی کا بڑا حصہ متاثرہ علاقوں کی ترقی پر خرچ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ کے معدنی وسائل سے ملک کو فائدہ پہنچتا ہے، لیکن ریاست کے حقوق اور عوام کے مفادات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت نے جھارکھنڈ کے معدنی اور آمدنی سے متعلق حقوق پر نظرثانی نہیں کی تو احتجاج کو وسیع کیا جائے گا اور اسے اضلاع سے لے کر بلاک اور پنچایت سطح تک لے جایا جائے گا۔

کنال شاڑنگی نے مرکزی حکومت سے ریاستوں کے ساتھ وسیع پیمانے پر مشاورت کرنے اور معدنیات پیدا کرنے والی ریاستوں کے مالی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ جھارکھنڈ اپنے قدرتی وسائل کے استعمال کے خلاف نہیں ہے، لیکن ریاست کے آئینی اور اقتصادی حقوق کی قیمت پر کوئی نیا بندو بست قبول نہیں کیا جائے گا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande