
واشنگٹن،15اگست(ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف ایک طاقتور اور غیر معمولی معاشی کارروائی کرنے جا رہا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی سفارتی کوششیں شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔
فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے خلاف ’’بھرپور معاشی حملہ‘‘ کرے گا۔ نیویارک کی ایک پولیس اکیڈمی میں سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ وہ جلد اعلان کریں گے کہ آبنائے ہرمز امریکہ کے ماتحت آ گئی ہے۔ ٹرمپ نے ساتھ ہی کہا کہ ایران کو جنگ میں سخت شکست کا سامنا ہے۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کر سکتا ہے، لیکن تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ٹرمپ نے ایران کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی کو ’’فولاد کی دیوار‘‘ قرار دیا۔ ان کے اس بیان کو ایرانی بندرگاہوں کے گرد امریکی بحری ناکہ بندی کی طرف اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔ٹرمپ کے یہ بیانات امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے ایک روز قبل دیے گئے بیان کے بعد سامنے آئے ہیں۔ بیسنٹ نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف ایسے اقدامات نافذ کرنے کی تیاری کر رہی ہے جو اس سے پہلے دنیا نے نہیں دیکھے ہوں گے۔
بیسنٹ کے مطابق امریکہ آئندہ ہفتے تہران کے خلاف مزید اقدامات کا اعلان کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کے لیے غیر معمولی نوعیت کی حکمت عملی اختیار کرے گا، جس میں مالی دباؤ کے ساتھ بحری ناکہ بندی بھی شامل ہوگی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر ناکہ بندی جاری رہی تو ایرانی بندرگاہوں پر سامان کی آمد و رفت متاثر ہوگی اور ملک کی درآمدات و برآمدات شدید مشکلات کا شکار ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب ایران نے مذاکرات کی میز پر واپسی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط برقرار رکھی ہیں۔ تہران کا بنیادی مطالبہ ہے کہ واشنگٹن جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ہرجانہ ادا کرے اور خطے سے امریکی افواج کا انخلا کیا جائے۔
ایران آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ اور کنٹرول کو بھی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی یہ آبنائے عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے، اسی لیے اس میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے عالمی تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
جون میں ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا معاہدہ ختم ہونے اور جولائی میں ٹرمپ کی جانب سے حملے دوبارہ شروع کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا۔ تاہم بعد میں سفارتی کوششوں کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی غرض سے حملے عارضی طور پر معطل کیے گئے۔اس دوران ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ایک ایسے معاہدے کی کوشش کی گئی جس سے کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار ہو سکے۔ تاہم دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں اور تازہ امریکی بیانات نے خطے میں کشیدگی کے دوبارہ بڑھنے کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan