
واشنگٹن،15اگست(ہ س)۔ امریکہ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کے قصبے قصرہ میں فلسطینیوں کے گھروں کا تقریباً ایک ہفتے سے جاری محاصرہ کرنے والے یہودی آباد کاروں کی کھلے عام مذمت کریں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک امریکی اور ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے حکام چاہتے ہیں کہ نیتن یاہو آباد کاروں کے اس اقدام کے خلاف واضح اور علانیہ موقف اختیار کریں۔ نابلس کے جنوب میں واقع قصرہ میں فلسطینی خاندانوں کو گھروں تک محدود کیے جانے کے معاملے پر واشنگٹن کی تشویش اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسے معلوم ہوا کہ محصور گھروں میں ایک امریکی شہریت رکھنے والے فلسطینی کا مکان بھی شامل ہے۔دونوں اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسی اطلاع کے بعد امریکی حکام نے اسرائیلی حکومت پر سفارتی دباؤ بڑھایا۔ تاہم نیتن یاہو نے اب تک قصرہ میں جاری محاصرے پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ ان کے دفتر اور وائٹ ہاؤس نے بھی رائٹرز کی جانب سے تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے جمعرات کو فلسطینی گھر کے محاصرے میں ملوث آباد کاروں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’’اسرائیلی دہشت گرد‘‘ قرار دیا۔ ہکابی کا یہ بیان اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ وہ ماضی میں مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری کی حمایت کے لیے معروف رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق قصرہ میں تقریباً 15 فلسطینی، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں، اپنے گھروں میں محصور ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ محاصرے کے دوران ان گھروں کی پانی اور بجلی کی فراہمی منقطع کردی گئی۔محصور گھروں میں سے ایک میں رہنے والی فلسطینی خاتون عائشہ حسن نے بتایا کہ چھ روز گزرنے کے باوجود صورتحال میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی اور آباد کار اب بھی گھروں کے اطراف موجود ہیں۔ان کے مطابق جمعہ کو غیر ملکی اور اسرائیلی کارکنوں کی جانب سے کچھ خوراک، پانی اور ڈبہ بند اشیا گھروں تک پہنچانے کی کوشش کی گئی، تاہم اسرائیلی فوج نے امدادی کارکنوں کو براہ راست گھروں تک جانے سے روک دیا۔ فوج نے علاقے کو بند فوجی علاقہ قرار دیا۔
بعد ازاں رہائشیوں کو ایک کچے راستے تک جانے کی اجازت دی گئی تاکہ وہ امدادی سامان خود حاصل کرکے اپنے گھروں تک پہنچا سکیں۔
محاصرے کے دوران آباد کاروں نے ایک محصور گھر کے قریب خیمہ بھی نصب کردیا۔ اسرائیلی فوج نے بعد میں موقع پر پہنچ کر خیمہ ہٹا دیا۔ میڈیا کوموصول ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک گھر کے باہر نیلے رنگ کے خیمے کے قریب سات آباد کار دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں ان میں سے ایک شخص قریبی گاؤں کی جانب پتھراؤ کرتا ہوا بھی نظر آتا ہے۔اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ اسرائیلی شہریوں نے قصرہ کے علاقے میں خیمہ قائم کیا تھا اور فوج نے اسے ہٹا دیا۔ فوج کے مطابق اس کارروائی کا مقصد علاقے کے رہائشیوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔
اسرائیلی فوج نے جمعرات کو قصرہ میں درجنوں اہلکار بھی تعینات کیے۔ فوج کے مطابق ان کی تعیناتی کا مقصد رہائشیوں کی حفاظت اور علاقے میں سکیورٹی برقرار رکھنا تھا۔اس سے قبل سامنے آنے والی ایک ویڈیو میں فوجی وردی پہنے اسرائیلی افراد کو خیمے کے اندر آباد کاروں کے ساتھ عبادت کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اگر کسی فوجی کی جانب سے ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
فلسطینیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گھروں کا محاصرہ محض ایک مقامی واقعہ نہیں بلکہ فلسطینی باشندوں کو اپنی زمینیں چھوڑنے پر مجبور کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔حقوقِ انسانی کے گروپس نے قصرہ اور قریبی قصبے جالود کے اطراف فلسطینی املاک پر قبضے کی کوششوں کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ان کے مطابق اس کا مقصد دونوں قصبوں کے درمیان موجود زمینوں پر کنٹرول حاصل کرکے انہیں جنوب میں قائم آباد کاری کی چوکیوں اور مغرب میں موجود بڑی یہودی بستیوں سے ملانا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاری میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد مغربی کنارے پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس علاقے میں تقریباً 30 لاکھ فلسطینی آباد ہیں، جبکہ ان کے درمیان تقریباً 5 لاکھ اسرائیلی آباد کار بھی رہتے ہیں۔اسرائیلی تنظیم ’’پیس ناؤ‘‘ کے مطابق مغربی کنارے میں تقریباً 146 یہودی بستیاں اور قریب 390 چھوٹی آباد کاری کی چوکیاں موجود ہیں۔
امریکی دباؤ نے نیتن یاہو حکومت کو ایک مشکل سیاسی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ ایک طرف واشنگٹن آباد کاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے خلاف واضح کارروائی اور علانیہ مذمت کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیلی حکومت کے دائیں بازو کے اتحادیوں میں آباد کاروں کی حمایت رکھنے والے حلقے بھی خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔قصرہ کا واقعہ اس لحاظ سے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کے لیے بھی اہم امتحان بن گیا ہے کہ واشنگٹن اس مرتبہ محض تشویش کا اظہار کرنے کے بجائے اسرائیلی وزیر اعظم سے براہ راست اور عوامی سطح پر آباد کاروں کے خلاف موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔اگر محاصرہ جاری رہتا ہے تو یہ معاملہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد، فلسطینی شہریوں کے تحفظ اور اسرائیلی حکومت کی پالیسی کے حوالے سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان اختلافات کو مزید نمایاں کرسکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan