
نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔ کوالالمپور میں 1975 میں رقم کی گئی بھارتی ہاکی کی سنہری تاریخ آج بھی ملک کے کھیل شائقین کی یادوں میں تازہ ہے۔ اب 51 سال بعد بھارتی مردوں کی ہاکی ٹیم نئی نسل کے دم پر اسی شان و شوکت کو دوبارہ حاصل کرنے کے ارادے سے ایف آئی ایچ مردوں کے ہاکی ورلڈ کپ 2026 میں اترے گی۔ کپتان ہرمن پریت سنگھ کی قیادت میں بھارتی ٹیم 15 اگست کو ویلز کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کرے گی اور اس کا مقصد ماضی کی کامیابیوں کو دہرانے کے بجائے اپنی نئی تاریخ رقم کرنا ہوگا۔
بھارت نے 1975 میں اجیت پال سنگھ کی کپتانی میں اپنا واحد ورلڈ کپ خطاب جیتا تھا۔ اتفاق سے اجیت پال سنگھ کے بعد ہرمن پریت سنگھ دوسرے ایسے بھارتی کھلاڑی ہیں، جو دو ورلڈ کپ میں ٹیم کی کپتانی کریں گے۔ ہرمن پریت نے 2023 ورلڈ کپ میں پہلی بار کپتانی کی تھی۔
بھارتی ٹیم کی تیاریاں بھی حوصلہ افزا رہی ہیں۔ ایف آئی ایچ پرو لیگ کے آخری مرحلے میں ٹیم نے موجودہ عالمی چمپئن جرمنی اور اولمپک چمپئن نیدرلینڈز کو شکست دی۔ بھارت نے روایتی حریف پاکستان کو بھی دو مرتبہ ہرایا، جبکہ انگلینڈ کو شوٹ آؤٹ میں شکست دی۔ ورلڈ کپ میں پاکستان اور انگلینڈ بھی بھارت کے گروپ میں شامل ہیں۔
بھارت کو پول ڈی میں انگلینڈ، پاکستان اور ویلز کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ بھارتی ٹیم 15 اگست کو ویلز، 17 اگست کو انگلینڈ اور 19 اگست کو پاکستان کے خلاف میدان میں اترے گی۔
اس بار ورلڈ کپ کا فارمیٹ بھی خاصا چیلنجنگ ہے۔ پہلے مرحلے کے چاروں پول سے سرفہرست دو، دو ٹیمیں اگلے مرحلے میں پہنچیں گی۔ دوسرے مرحلے میں پول ای اور پول ایف بنائے جائیں گے، جبکہ دیگر آٹھ ٹیمیں درجہ بندی کے مقابلوں کے لیے پول جی اور پول ایچ میں جائیں گی۔ دوسرے مرحلے کے پول ای اور پول ایف کی سرفہرست دو، دو ٹیمیں سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی۔خاص بات یہ ہے کہ پہلے مرحلے میں کوالیفائی کرنے والی ٹیم کے خلاف حاصل کیے گئے پوائنٹس اور نتائج اگلے مرحلے میں بھی ساتھ جائیں گے۔ اس لیے ابتدائی مرحلے کا ہر مقابلہ انتہائی اہم ہوگا۔
بھارتی ٹیم میں تجربہ کار کھلاڑیوں کی کمی نہیں ہے۔ مندیپ سنگھ اور من پریت سنگھ چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ میں حصہ لیں گے۔ من پریت کے نام 417 بین الاقوامی میچ ہیں اور وہ ٹورنامنٹ میں بھارت کی جانب سے سب سے زیادہ بین الاقوامی میچ کھیلنے والے کھلاڑی ہوں گے۔ہرمن پریت سنگھ، ہاردک سنگھ، امیت روہیداس، وویک ساگر پرساد، سُمت اور نیل کانت شرما بھی ٹیم کو مضبوطی فراہم کریں گے۔
ہیڈ کوچ کریگ فلٹن نے ہاکی انڈیا کے حوالے سے کہا، ’’ہماری طاقت ہماری مختلف صلاحیتوں کا امتزاج ہے۔ ہمارے پاس ٹورنامنٹ، اولمپکس اور ورلڈ کپ کا تجربہ رکھنے والے کھلاڑی ہیں، جبکہ ہمارے ساتھ ایسے نوجوان کھلاڑی بھی ہیں جنہوں نے انڈر-21 سطح پر عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور گزشتہ 18 ماہ کے دوران ٹیم میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ہم اس امتزاج کو لے کر پرجوش ہیں۔‘‘بھارتی ٹیم میں آٹھ کھلاڑی پہلی مرتبہ ورلڈ کپ میں حصہ لیں گے۔ ان میں 23 سالہ مڈفیلڈر آدتیہ ارجن لالگے بھی شامل ہیں، جنہیں اب تک 13 بین الاقوامی میچ کھیلنے کا تجربہ حاصل ہے۔
ڈیفینڈر یش دیپ سیواچ کے لیے یہ ورلڈ کپ انتہائی خاص ہوگا۔ وہ پہلی بار ورلڈ کپ میں شرکت کریں گے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جس ملک میں یہ ٹورنامنٹ کھیلا جا رہا ہے، وہیں ان کی والدہ پریتَم سیواچ بھی بھارت کی نمائندگی کرتے ہوئے ورلڈ کپ کھیل چکی ہیں۔ اس طرح بھارتی ہاکی کی وراثت میں ایک منفرد خاندانی کڑی جڑ گئی ہے۔گول کیپنگ کے شعبے میں بھی ایک نیا باب شروع ہوگا۔ بھارت کے دونوں گول کیپر سورج کرکیرا اور موہت ایچ ایس پہلی مرتبہ ورلڈ کپ میں حصہ لیں گے۔
بھارتی ٹیم 15 اگست، یعنی یومِ آزادی کے دن ویلز کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کرے گی۔ ایک طرف 1975 کی سنہری یادیں ہوں گی، تو دوسری جانب ہرمن پریت اور ان کی ٹیم کے پاس بھارتی ہاکی کے لیے ایک نیا باب رقم کرنے کا موقع ہوگا۔
کریگ فلٹن نے کہا، ’اگر آپ اولمپکس میں بھارت کی وراثت کو دیکھیں تو وہ بہت شاندار ہے۔ لیکن ہم نے آخری مرتبہ ورلڈ کپ 51 سال پہلے جیتا تھا۔ اس لیے ہم بھارتی تاریخ میں اپنا ایک نیا باب لکھنا چاہتے ہیں۔ یہی ہمارا بڑا مقصد ہے۔‘
بھارت کے لیے یہ صرف ایک اور ورلڈ کپ نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے شاندار ماضی کودوہرانے، 51 سالہ انتظار کو ختم کرنے اور نئی نسل کے ساتھ ایک بار پھر عالمی چمپئن بننے کی جانب قدم بڑھانے کا سنہری موقع ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan