ایشیا کپ سے پہلے خود کو پرکھ رہی ہیںدیپتی، کہا – دی ہنڈریڈ سے تیاری کو مضبوط کرنے کا موقع
نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔ ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی اسٹار آل راو¿نڈر دیپتی شرما آنے والے ویمن ایشیا کپ میں پوری تیاری کے ساتھ اترنے کے لیے دی ہنڈریڈ 2026 کو ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔ سن رائزرز لیڈز ویمن کے لیے گیند اور ف
Sports-Cricket-Deepti-Asiacup


نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔ ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی اسٹار آل راو¿نڈر دیپتی شرما آنے والے ویمن ایشیا کپ میں پوری تیاری کے ساتھ اترنے کے لیے دی ہنڈریڈ 2026 کو ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔

سن رائزرز لیڈز ویمن کے لیے گیند اور فیلڈنگ کے ساتھ متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی دیپتی کا مقصد اس ٹورنامنٹ میں ہر موقع کا زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا اور تینوں شعبوں - بیٹنگ، بولنگ اور فیلڈنگ کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دی ہنڈریڈ میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتی ہیں تاکہ وہ 28 اگست سے شروع ہونے والے ایشیا کپ میں پوری تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں۔

دیپتی نے جیواسٹار کو بتایا، ”ویمنز چیمپئنز ٹرافی کے لیے ابھی کچھ وقت باقی ہے، جو فروری 2027 میں کھیلی جائے گی۔ اس لیے، فی الحال، میری توجہ دی ہنڈریڈ پر ہے۔ خواتین ایشیا کپ 28 اگست سے شروع ہو رہا ہے اور یہ ہندوستانی ٹیم کے لیے ایک اہم ٹورنامنٹ ہے“۔

انہوں نے کہا، ”دی ہنڈریڈ میں کھیلنا مجھے تینوں شعبوں-بلے بازی، گیندبازی اور فیلڈنگ -میں اپنی صلاحیتوں پر کام کرنے کا بہترین موقع فراہم کر رہا ہے۔ میں اس ٹورنامنٹ سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں تاکہ میں پوری طرح تیار ہو کر ایشیا کپ میں داخل ہو سکوں۔ میں سن رائزرز لیڈز کے لیے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہوں اور اس سے مجھے ایک کھلاڑی کے طور پر آگے بڑھنے اور طویل عرصے میں ٹیم کو فائدہ پہنچانے میں مدد ملے گی۔“

سن رائزرز لیڈز میں شامل ہونے کے بارے میں پرجوش دیپتی نے کہا،”جب مجھے سن رائزرز لیڈز کے لیے منتخب کیا گیا تو میں بہت پرجوش تھی، کیونکہ اونج میرا پسندیدہ رنگ ہے، اس لیے جب بھی میں اورنج رنگ دیکھتی ہوں، تو مجھے ہمیشہ اچھا لگتا ہے۔ یہاں لیڈز میں ہمارے ہوم گراو¿نڈ پر کھیلنا خاص ہے۔ گراو¿نڈ ہمیشہ سن رائزرز کے شائقین سے بھرا ہوتا ہے اور میں جہاں بھی دیکھتی ہوں، مجھے اونج رنگ ہی نظر آتا ہے۔“

انہوں نے کہا”مجھے لگتا ہے کہ شائقین بھی ہمیں گھر یلو میدان پر اچھی کارکردگی دیکھ کر لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ایک ٹیم کے طور پر، ہم واقعی ایک دوسرے کے تعاون کی تعریف کرتے ہیں، خواہ وہ اچھی اننگز ہو یا سخت گیند بازی۔ ہم ایک گروپ کے طور پر اس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ہم ان تجربات سے جتنا زیادہ سیکھیں گے، ہمارے لیے اتنا ہی بہتر ہو گا۔“

ہندوستانی ٹیم کی جرسی پہننے کے فخر کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیپتی نے کہا، ”جب آپ نیلی جرسی پہنتے ہیں، تو یہ آپ کو اپنے لئے، اپنے خاندان اور اپنے ملک کے لیے فخر سے بھر دیتا ہے۔ یہ صرف ایک جرسی نہیں ہے، یہ برسوں کی محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ جب توقعات زیادہ ہوتی ہیں اور آپ اپنے ملک کے لیے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں، تو یہ احساس ناقابل یقین حد تک خاص ہوتا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے لیکن ہم سب اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ ہم بطور ٹیم کامیاب ہوں اور اپنے مداحوں کو خوش کریں۔ یہی چیز ہمیں ہر بار جب بھی میدان میں اترتے ہیں تو اپنا بہترین دینے کی ترغیب دیتی ہے۔

مشکل حالات میںاچھی کارکردی کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیپتی نے کہا، ”میرے لیے ہر میچ اہم ہے۔ یہ صرف خواتین کی چیمپئنز ٹرافی کے بارے میں نہیں ہے۔ میں ہر میچ میں 100 فیصد سے زیادہ دینے کی کوشش کرتی ہوں،خواہ وہ کوئی بڑا ٹورنامنٹ ہو یا کوئی اور مقابلہ۔ میں ٹیم کے لیے جتنا زیادہ تعاون دے سکتی ہوں، اتنا ہی بہتر ہے۔“

انہوں نے کہا، ”مجھے چیلنجوں کا سامنا کرنا واقعی پسند ہے۔ جب بھی مشکل حالات پیدا ہوتے ہیں، میں ہمیشہ ان کے لیے تیار رہتی ہوں۔ میں دراصل دباو¿ کے لمحات سے لطف اندوز ہوتی ہوں کیونکہ وہ مجھے بہتر کارکردگیکا مظاہر کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔“

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande