
بھوپال، 14 اگست (ہ س)۔
مدھیہ پردیش نرسنگ کونسل کے رجسٹرار مکیش سنگھ کو نرسنگ کے امتحانات میں بے ضابطگیوں اور امتحان نتائج میں تاخیر کے پیشِ نظر انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت عامہ راجیندر شکلا کی ہدایت کے بعد جمعہ کے روز یہ کارروائی کی گئی ہے۔
دراصل، نرسنگ کے امتحانات میں طویل عرصے سے جاری بے ضابطگیوں اور نتائج میں تاخیر کو لے کر طلبہ میں شدید ناراضگی پائی جا رہی تھی۔ بھوپال میں واقع نرسنگ کونسل کے دفتر کے باہر طلبہ گزشتہ پانچ دنوں سے مسلسل مظاہرہ کر رہے ہیں۔ مختلف مطالبات کے حوالے سے نرسنگ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (این ایس او) کے ارکان حکومت اور انتظامیہ کے خلاف احتجاج درج کرا رہے تھے۔ تنظیم کا الزام ہے کہ امتحانات اور نتائج سے متعلق عمل میں مسلسل لاپروائی برتی جا رہی ہے، جس کے باعث ہزاروں طلبہ کا مستقبل داو پر لگا ہوا ہے۔
مظاہرین طلبہ کا مطالبہ ہے کہ تمام جی این ایم طلبہ کے امتحان نتائج کا اعلان کیا جائے اور آئندہ کے امتحانات منعقد کرائے جائیں۔ اس کے علاوہ بی ایس سی نرسنگ کے طلبہ کے نتائج جاری کرنے اور ان کے امتحانات کرانے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین طلبہ نے درج فہرست ذاتوں، قبائلیوں، او بی سی طبقے اور پیرامیڈیکل کے طلبہ کے لیے اسکالرشپ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی ای ڈبلیو ایس اور جنرل کیٹیگری کے طلبہ کو بھی اسکالرشپ کا فائدہ دینے کا مطالبہ رکھا گیا ہے۔
طلبہ نے نرسنگ اور پیرامیڈیکل اداروں کو جبل پور میں واقع میڈیکل یونیورسٹی سے منسلک کرنے اور فیکلٹی مینجمنٹ سسٹم نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے تعلیمی نظام زیادہ شفاف اور منظم ہو سکے گا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ امتحان نظم و نسق میں بدعنوانی اور نتائج میں مسلسل تاخیر کی وجہ سے انہیں ذہنی تناو اور کیریئر سے متعلق مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی سبب سے وہ اپنے مطالبات کو لے کر تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں۔
طلبہ کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر صحت عامہ و طبی تعلیم راجیندر شکلا نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے کارروائی کے احکامات دیے۔ ان کی ہدایت کے بعد نرسز رجسٹریشن کونسل کے رجسٹرار مکیش سنگھ کو ان کے عہدے سے فوری اثر کے ساتھ ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کی جگہ ڈاکٹر اوپیندر دھوتے کو کونسل کے نئے رجسٹرار کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
بہت زیادہ مشہور نرسنگ کالج فرضی واڑہ کیس میں ہائی کورٹ کی جبل پور میں واقع پرنسپل بینچ نے ایک دن پہلے ہی 2395 متاثرہ طلبہ کو بڑی راحت دی تھی۔ جسٹس آنند پاٹھک اور جسٹس بی پی شرما کی بینچ نے لاء اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ وشال بگھیل کی مفاد عامہ کی عرضی پر جمعرات کے روز سماعت کرتے ہوئے ان سوٹ ایبل کالجوں سے سوٹ ایبل کالجوں میں ٹرانسفر ہونے والے طلبہ کو آئندہ کے امتحانات میں شامل ہونے اور ان کے رکے ہوئے نتائج جاری کرنے کے احکامات دیے تھے۔
سماعت کے دوران ایڈوکیٹ جنرل پرشانت سنگھ اور ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل ابھیجیت اوستھی نے عدالت کو بتایا کہ ٹرانسفر کے اہل 4475 رجسٹرڈ طلبہ میں سے 2813 نے عمل میں حصہ لیا، جن میں سے 2395 طلبہ کا کامیابی کے ساتھ تبادلہ کیا جا چکا ہے۔ عدالت نے اس رپورٹ کو ریکارڈ پر لیتے ہوئے طلبہ کے مفاد میں یہ فیصلہ سنایا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن