نیٹ پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی کو مزید تفتیش کی اجازت
نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔ نیٹ پیپر لیک معاملے کی سماعت کر رہی راو¿ز ایونیو فاسٹ ٹریک کورٹ کے اسپیشل جج اجے گپتا نے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو اس معاملے میں مزید تفتیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے سی بی آئی کو ہدایت دی کہ ڈیجیٹل شواہد
نیٹ پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی کو مزید تفتیش کی اجازت


نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔

نیٹ پیپر لیک معاملے کی سماعت کر رہی راو¿ز ایونیو فاسٹ ٹریک کورٹ کے اسپیشل جج اجے گپتا نے مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کو اس معاملے میں مزید تفتیش کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے سی بی آئی کو ہدایت دی کہ ڈیجیٹل شواہد اور ڈیٹا کے حوالے سے مزید تفتیش کرکے اس کی رپورٹ ضمنی چارج شیٹ کے ساتھ داخل کرے۔

عدالت نے کہا کہ حقائق سے واضح ہے کہ تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور نوٹس لینے کے بعد چارج شیٹ پر ابھی سماعت ہونی باقی ہے۔ ایسی صورت میں مزید تفتیش کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس سے قبل 12 اگست کو عدالت نے سی بی آئی کی جانب سے 13 ملزموں کے خلاف داخل کی گئی چارج شیٹ کا نوٹس لیا تھا۔

سی بی آئی نے یش یادو، مانگی لال بیوال، دنیش بیوال، وکاس بیوال، شبھم کھیرنار، دھننجے لوکھنڈے، پرہلاد کلکرنی، تیجس ہرشد کمار، ڈاکٹر منوج شیرورے، شیوراج رگھوناتھ موٹے گاو¿نکر، منیشا واگھمارے، منیشا مندارے اور منیشا سنجے حو لدار کو ملزم بنایا ہے۔ یہ تمام ملزم فی الحال عدالتی حراست میں ہیں۔

سی بی آئی نے تمام ملزموں کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعات 315(5)، 318(4)، 61(2)، 238، 303(2)، انسدادِ بدعنوانی قانون کی دفعات 13(2) اور 13(1)(اے) اور پبلک ایگزامینیشن (پریونشن آف اَن فیئر مینز) ایکٹ کی دفعات 10، 3، 4، 5 اور 11 کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔ اس سے قبل عدالت نے تین ملزموں مانگی لال بیوال، وکاس بیوال اور دنیش بیوال کا لائی ڈٹیکٹر ٹیسٹ کرانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / عطاءاللہ


 rajesh pande