
جمعیة علماء ہند اور آمو کی عرضی پر نوٹس کے باوجود مرکزی اور آسام حکومت نے جواب داخل نہیں کیا، سپریم کورٹ نے چھ ہفتے کا وقت دیا
نئی دہلی، 10 اگست(ہ س )۔
آسام میں حتمی این آر سی کے نافذ ہونے اور اس میں شامل شہریوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کیے جانے سے متعلق جمعیة علماء ہند اور آمو کی جانب سے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ف±ضیل احمد ایوبی کے ذریعے دائر اہم عرضی پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ معاملے کی سماعت جسٹس ایس۔ ایم۔ نرسمہا اور جسٹس آلوک آرادھے پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔
اگرچہ مرکزی اور آسام حکومت کو نوٹس جاری کیے جانے کے باوجود ابھی تک جواب داخل نہیں کیا گیا ہے۔ اس پر عدالت نے معاملے کی سماعت چھ ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔ سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت مانگا، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
جمعیة علماء ہند کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ نوٹس جاری ہونے کے باوجود مرکزی اور ریاستی حکومت نے ابھی تک اپنا جواب داخل نہیں کیا ہے۔ اب انہیں اپنا موقف، اعتراض اور جواب عدالت کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔
سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ بھارت کے رجسٹرار جنرل کی جانب سے جمعی? علماء ہند کی عرضی پر جواب داخل کیا جا چکا ہے۔ اس کے جواب میں جمعیة علماء ہند کی جانب سے جلد ہی ری جوائنڈر داخل کیا جائے گا۔
انہوں نے عدالت کی توجہ اس اہم حقیقت کی جانب بھی دلائی کہ حتمی این آر سی شائع ہوئے چھ سال گزر چکے ہیں، لیکن اس میں شامل لوگوں کو ابھی تک قومی شناختی کارڈ جاری نہیں کیے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ میں آج ہوئی سماعت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیة علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ نوٹس جاری ہونے کے باوجود مرکزی اور آسام حکومتوں کی جانب سے جواب داخل نہ کرنا اور حتمی این آر سی کے چھ سال بعد بھی قانونی عمل مکمل نہ کیا جانا اس اندیشے کو مضبوط کرتا ہے کہ شہریت کے اس حساس مسئلے کو سیاسی فائدے کے لیے جان بوجھ کر زندہ رکھا جا رہا ہے۔
مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ماضی میں اس حساس مسئلے کو لے کر آسام میں فرقہ وارانہ طاقتیں مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر اکثریتی معاشرے کی نظروں میں ان کی شہریت اور حیثیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ اسی وجہ سے آسام میں سماجی سطح پر طویل عرصے تک فرقہ وارانہ کشیدگی کی صورت حال بنی رہی۔
انہوں نے کہا کہ چاہے پنچایت سرٹیفکیٹ کو تبدیل کرنے کا معاملہ ہو، شہریت کے لیے آخری تاریخ مقرر کرنے کا معاملہ ہو یا ریاست میں مدارس کو بند کرنے کی کوشش، جمعیة علماء ہند ہر ایسے موقع پر متاثرین اور متاثرہ لوگوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی رہی ہے اور ان کے مقدمات کو پوری طاقت کے ساتھ عدالتوں میں لڑتی آئی ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ آسام کی موجودہ ریاستی حکومت امتیاز اور نفرت کی سیاست اور مسلم مخالف ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اور سیاسی فائدے کے لیے شہریت کے مسئلے کو مسلسل زندہ رکھنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حتمی این آر سی شائع ہونے کے باوجود شہریوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کرنے میں جان بوجھ کر ٹال مٹول کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آسام میں این آر سی کے عمل کو قانون کے مطابق مکمل کرنا ریاست میں امن اور سماجی ہم آہنگی کی بحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ساتھ ہی یہ مساوات، بھائی چارے اور قانون کی حکمرانی جیسے آئینی اصولوں کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔
قابل ذکر ہے کہ جمعیةعلماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی رہنمائی اور سرپرستی میں جمعیة علماء ہند آسام کے صدر مولانا مشتاق انفر کی قیادت میں این آر سی اور پنچایت سرٹیفکیٹ، دفعہ 6A سمیت کئی اہم معاملات گزشتہ 14 برسوں سے عدالتوں میں مضبوطی سے لڑے جاتے رہے ہیں اور اس میں کامیابی بھی ملی ہے۔
جمعیة علماء ہند کے مطابق آسام کا معاملہ انتہائی حساس رہا ہے۔ اگر فرقہ وارانہ عناصر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے تو ایک اندازے کے مطابق لاکھوں مسلمانوں کی شہریت خطرے میں پڑ سکتی تھی۔
آج سپریم کورٹ میں ہوئی سماعت کے دوران جمعیة علماء ہند آسام کے صدر مولانا مشتاق انفر، مولانا کلیم الدین، آمو کے صدر اور دیگر عہدیداران بھی موجود رہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais