

رانچی، 10 اگست (ہ س)۔ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) اور دارالحکومت رانچی میں بھرتی کے دیگر امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے خلاف جاری طلبہ کا احتجاج پیر کو پرتشدد ہو گیا۔ ہزاروں طلبہ اسمبلی کا گھیراؤ کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین، جو اسمبلی کی طرف بڑھ رہے تھے، نے کئی جگہوں پر پولیس کی طرف سے لگائی گئی رکاوٹوں اور حفاظتی محاصرے کو عبور کرنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد پولیس نے کارروائی کی اور 500 سے زائد طلبا کو حراست میں لے لیا۔
حراست میں لیے گئے طلبا کو بسوں میں کھیل گاؤں کی کیمپ جیل بھیج دیا گیا۔ پولیس کی کارروائی کے باوجود مشتعل طلبہ نے کہا ہے کہ وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت ان کے مطالبات پر ٹھوس اقدامات نہیں کرتی۔
طلبا کے اسمبلی کا گھیراؤ کرنے کے اعلان کے پیش نظر پولیس اور انتظامیہ نے اسمبلی کی طرف جانے والی مرکزی سڑکوں پر سیکورٹی کے وسیع انتظامات کیے تھے۔ کئی جگہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور بڑی تعداد میں پولیس فورس اور حفاظتی اہلکار تعینات کیے گئے۔
پیر کو جیسے جیسے طلباء کی تعداد بڑھتی گئی مظاہرین اور پولیس کے درمیان کشیدہ صورتحال پیدا ہونے لگی۔ کئی جگہوں پر طلباء نے پولیس کی رکاوٹیں عبور کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد پولیس نے کارروائی کی اور بڑی تعداد میں طلبا کو حراست میں لے لیا۔
طلبہ کی تحریک کے درمیان سیاسی محاذ پر بھی سرگرمیاں تیز ہوگئیں۔ بی جے پی کے ریاستی صدر آدتیہ ساہو، سابق وزرائے اعلی بابو لال مرانڈی، دیپک پرکاش اور کئی بی جے پی اراکین اسمبلی اور دیگر رہنما وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے پر بیٹھے۔
طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے بی جے پی رہنماؤں نے بھرتی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر ریاستی حکومت سے سوال کیا اور اس معاملے میں حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔
وزیر اعلی کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے پر بیٹھے سابق وزیر اعلی اور اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بابو لال مرانڈی سمیت کئی دیگر بی جے پی رہنماؤں کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے رہنماؤں کو بس کے ذریعے کھیلگ اؤں کے کیمپ جیل لے جایا گیا ہے۔
رانچی پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے طلباء کے اسمبلی گھیراؤ کے پیش نظر پہلے ہی حفاظتی انتظامات کر لیے تھے۔ اسمبلی اور وزیر اعلی کی رہائش گاہ کی طرف جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔
انتظامیہ نے مظاہرین کو اسمبلی کے احاطے تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کی، جبکہ مشتعل طلبہ کسی بھی صورت میں اسمبلی تک پہنچنے اور حکومت کے سامنے اپنے مطالبات پیش کرنے پر بضد تھے۔ پولیس کی کارروائی اور حراست کے بعد بھی طلبہ نے کہا ہے کہ وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔
ہندوستھان سماچار
--------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد