جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبا نے اسمبلی کا گھیراؤ کیا
رانچی، 10 اگست (ہ س)۔ جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبا نے پیر کو اسمبلی کا گھیراو کیا۔ جھارکھنڈ کے تمام 24 اضلاع سے 50 ہزار سے زیادہ امیدواروںکی اس احتجاج میں شرکت کی توقع ہے۔ ریاست کے مختلف اضلاع سے طلبا
JH-VS-JPSC-AND-JSSC-STUDENT-HAVE-STARTED-GATHERING


JH-VS-JPSC-AND-JSSC-STUDENT-HAVE-STARTED-GATHERING


JH-VS-JPSC-AND-JSSC-STUDENT-HAVE-STARTED-GATHERING


رانچی، 10 اگست (ہ س)۔ جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبا نے پیر کو اسمبلی کا گھیراو کیا۔ جھارکھنڈ کے تمام 24 اضلاع سے 50 ہزار سے زیادہ امیدواروںکی اس احتجاج میں شرکت کی توقع ہے۔

ریاست کے مختلف اضلاع سے طلبا بڑی تعداد میں ٹرین، بس اور نجی گاڑیوں کے ذریعے رانچی پہنچے ہیں۔ دارالحکومت میں طلبا کی آمد کا سلسلہ اتوار کی شام تک جاری رہا۔ رانچی ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ اور شہر کے بڑے علاقوں میں امیدواروں کی بھیڑنظر آئی۔ ریلوے اسٹیشن پر پہنچنے کے بعد طلبہ کے کئی گروپوں نے نعرے لگائے اور احتجاجی مقام کی طرف روانہ ہوئے ۔

پیر کی صبح امیدواروں کی بھیڑ جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم سے لے کرپرانے ودھان سبھا چوک تک جمع ہوئی۔ مختلف مقامات سے طلبہ کو چھوٹے چھوٹے گروپس میں ودھان سبھا کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا گیا۔ سینکڑوں امیدوار ہاتھوں میں ترنگا لے کر لوک بھون کے قریب بھی پہنچے۔ ریلوے اسٹیشن اور بس اسٹینڈ دیگر اضلاع سے آنے والے طلبہ سے کھچا کھچ بھرے ہوئے تھے۔

رانچی کے مختلف اضلاع سے طلبا کا جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں جمع ہونا جاری ہے۔ وہاں سے امیدواروں کی ایک بڑی تعداد اپنے مطالبات کے حق میںاسمبلی کی طرف مارچ کر رہی ہے۔ طلبا کے احتجاج کے پیش نظر ضلع انتظامیہ اور پولیس نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے ہیں۔

جگناتھ پور، ارگوڑہ، ہرمو روڈ اور وزیر اعلی کی رہائش گاہ کی طرف جانے والی سڑک سمیت کئی اہم مقامات پر بیریکیڈنگ کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ برسا چوک، ودھان سبھا چوک، جگن ناتھ پور کے بجرنگی چوک اور نئے اسمبلی حلقہ میں بھی بیریکیڈنگ کی گئی ہیں۔

انتظامیہ کے ذریعہ کئی مقامات پر سیکورٹی کو مسلسل مضبوط کیا جا رہاہے۔ چار سطحی بیریکیڈنگ کی جا رہی ہے ۔ مظاہرین کے ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے واٹر کینن بھی تعینات کر دی گئی ہے۔ شہر بھر کے حساس مقامات پر مرد و خواتین پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد کو تعینات کیا گیا ہے۔

اسمبلی کی طرف جانے والے اہم چوراہوں پر بھی سیکورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس انتظامیہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکنے کے لیے حساس مقامات پر خصوصی نگرانی کر رہی ہے۔

قبل ازیں ضلع انتظامیہ نے طلبا سے احتجاج میں شرکت نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔ انتظامیہ نے خبردار کیا کہ کسی بھی طرح کے اشتعال یا پرتشدد سرگرمی میں ملوث پائے جانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ نے طلبا سے اپیل کی کہ وہ اپنے مطالبات پرامن طریقے سے پیش کریں اور امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کریں۔

طلبا کے اسمبلی کے گھیراو کے پیش نظر رانچی پولیس نے اسمبلی علاقہ اور اس کے آس پاس سیکورٹی بڑھا دی ہے۔ حساس مقامات پر بیریکیڈنگ کے ساتھ ساتھ آنے -جانے والوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ اسمبلی کی طرف جانے والے اہم راستوں پر پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔

انتظامیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ کسی بھی حالت میں امن و امان میں خلل نہ پڑے۔ پولیس اہلکار مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ایس ایس پی راکیش رنجن اور دیگر سینئر افسران سیکورٹی انتظامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande