ارجنٹینا کی جیت پر مصر کے کوچ حسام حسن مشتعل ہو گئے۔ فیفا پر تعصب کا الزام لگایا
اٹلانٹا، 8 جولائی (ہ س)۔ مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے راؤنڈ آف 16 میں ارجنٹینا سے 2-3 سے ہارنے کے بعد ریفری اور فیفا پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی ٹیم کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا گیا اور دفاعی عالمی
Sports-Football-FIFA-WC-Scaloni-Argentina-Egypt


اٹلانٹا، 8 جولائی (ہ س)۔ مصر کے ہیڈ کوچ حسام حسن نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے راؤنڈ آف 16 میں ارجنٹینا سے 2-3 سے ہارنے کے بعد ریفری اور فیفا پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی ٹیم کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا گیا اور دفاعی عالمی چیمپئن ارجنٹینا کو ان فیصلوں سے فائدہ ہوا۔

حسام حسن نے میچ کے بعد کہا کہ ہم دنیا کی سب سے بڑی ٹیموں میں سے ایک کے خلاف کھیلے اور ہر شعبے میں ان سے بہتر تھے۔ لیکن ریفری پر یک طرفہ دباؤ بنایا جس کی وجہ سے نتیجہ ہمارے خلاف چلا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مصر نے میچ سے پہلے ہی ریفری فرانکوئس لیٹیکسیئر کی تقرری پر اعتراض کیا تھا۔ شکست کے بعد، انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی ٹیم کو واضح پنالٹی سے منع کر دیا گیا تھا اور یہ کہ دوسرا گول غلط طور پر مسترد کر دیا گیا ۔

حسن نے کہا،”ہم اس جیت کے مستحق تھے، لیکن ہمیں انصاف نہیں ملا۔ میدان میں نہ تو منصفانہ کھیل تھا اور نہ ہی احترام۔ فیفا 'فیئر پلے' کی تبلیغ کرتا ہے، لیکن اس کا میدان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اگر ریفری کی غلطیاں نہ ہوتیں تو نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔“ میچ کے بعد ریفری کے ساتھ ان کی گرما گرم بحث بھی ہوئی۔

حسن نے کہا، ”میں نے ریفری کو بتایا کہ یہ مکمل طور پر غیر منصفانہ ہے۔ شاید اس کے ذہن میں کچھ تھا جسے وہ چھپانا چاہتے تھے۔ جو لوگ کچھ چھپانے کی کوشش کرتے ہیں وہ اکثر کامیاب نہیں ہوتے۔ اب میں اس ٹورنامنٹ کا مزید میچ نہیں دیکھوں گا۔“

دوپہر کے میچ پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا

مصر کے کوچ نے فیفا کے میچ شیڈول پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دوپہر 12 بجے میچ کا انعقاد کروانا فٹ بال کی سمجھ نہیں ظاہر کرتا، کھلاڑی کب کھائیں گے؟ جو لوگ ایسا شیڈول بناتے ہیں، انہیں فٹبال کی سمجھ نہیں ہے۔

ٹیم اور عرب افریقی فٹ بال پر فخر کا اظہار کیا

ناراضگی کے باوجود حسام حسن نے اپنی ٹیم کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، ”میں نے کھلاڑیوں سے کہا کہ مجھے ان پر فخر ہے۔ یہ ٹیم ترقی کرتی رہے گی اور مضبوط ہوتی جائے گی۔ مجھے نہ صرف اپنی ٹیم پر بلکہ پوری عرب دنیا اور افریقی فٹبال پر فخر ہے۔“

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande