
نئی دہلی، 8 جولائی (ہ س)۔مربوط پیکیجنگ حل فراہم کرنے والی کمپنی نیک پیکیجنگ کے حصصنے آج اسٹاک مارکیٹ میں زبردست انٹری کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو خوش کر دیا۔ کمپنی کے حصص آئی پی او کے تحت170 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔ آج،بی ایس ای پر 186 روپے اس کی لسٹنگ 9.41 فیصد کے پریمیم کے ساتھ186روپے کی سطح پر اور این ایس ای پر 10.59 فیصد کے پریمیم کے ساتھ 188روپے کی سطح پر ہوئی۔ لسٹنگ کے بعد خریداری کی حمایت سے یہ حصص 192 روپے تک بڑھ گئے، لیکن پھر فروخت کے دباو¿ کی وجہ سے 183.15 روپے کی سطح تک بھی آ گیا۔ صبح 11 بجے تک، نیک پیکیجنگ کے حصص 187.06 روپے فی حصص پر ٹریڈ کر رہے تھے۔ اس طرح، اب تک کی ٹریڈنگ میں، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو 17.06 روپے فی شیئر یعنی 10.04 فیصد کا منافع ہو چکا تھا۔
کمپنی کا 439.50 کروڑ روپے کا آئی پی او 3 جولائی کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست ردعمل ملا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 87.17 گنا سبسکرائب کیا گیا ۔ ان میں سے، کوالیفائیڈ انسٹیٹیوشنل بائرز (کیو آئی بی ) کے لیے مخصوص حصہ 160.22 بار سبسکرائب کیا گیا۔ اسی طرح، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں ( این آئی آئی ) کے لیے مختص حصہ 146.64 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اس کے علاوہ، خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ 21.09 گناسبسکرائب کیا گیا۔ ملازمین کے لیے مختص حصہ 9.84گناسبسکرائب کیا گیا۔
اس آئی پی او کے تحت 10روپے کی فیس کل 2,58,52,941 حصص فروخت کیے گئے۔ اس میں 380 کروڑ مالیت کے 2,23,52,941 نئے حصص جاری کئے گئے ، جبکہ 35 لاکھ شیئرز آفر فار سیل ونڈو کے ذریعے جاری کیے گئے تھے۔ آئی پی او میں نئے حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کو کمپنی ایک نئی مینوفیکچرنگ سہولت قائم کرنے، اپنے موجودہ قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔
نیک پیکیجنگ کی مالی حالت کے بارے میں بات کریں تو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کیے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی ) میں کئے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی صحت میں مسلسل بہتری آرہی ہے۔ مالی سال 2022-23 میں، کمپنی کا خالص منافع 19.87 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 45.98 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 73.81 کروڑ روپے ہو گیا۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 میں کمپنی کو 92.72 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی بتدریج اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022-23 میں، اس نے 518.47 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 659.01 کروڑ روپے ہو گئی اور مالی سال 2024-25 میں مزید بڑھ کر 747.38 کروڑ روپے ہو گئی۔ مالی سال 2025-26 میں، کمپنی نے 843.77 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کے قرضوں کے بوجھ میں اتار چڑھاو¿ آیا۔ مالی سال 2022-23 کے آخر میں، کمپنی پر 122.66 کروڑ کا قرض تھا، جو مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 173.09 کروڑ روپے ہو گیا اور مالی سال 2024-25 میں قدرے کم ہو کر172.06 کروڑ روپے ہو گیا۔ مالی سال 2025-26 کے اختتام پر، کمپنی کے قرض کا بوجھ 192.47 کروڑروپے تک پہنچ گیا۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کے ریزرو اور سرپلس میں بھی مسلسل اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022-23 کے اختتام پر، کمپنی کے ذخائر اور سرپلس 90.34 کروڑ روپے تھے، جو مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 135.62 کروڑ روپے ہو گئے اور مالی سال 2024-25 میں مزید بڑھ کر 209.71 کروڑ روپے ہو گئے۔ مالی سال 2025-26 میں، کمپنی کے ذخائر اور سرپلس 208.19 کروڑ روپے تک پہنچ گئے۔
اس عرصے کے دوران کمپنی کی مجموعی مالیت میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022-23 میں یہ 95.34 کروڑ روپے تھی اور 2023-24 میں بڑھ کر 140.62 کروڑ روپے ہو گیا۔ اسی طرح، 2024-25 میں، کمپنی کی مجموعی مالیت 214.71 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ پچھلے مالی سال، 2025-26 میں، یہ 308.19 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ۔
اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے 2022-23 میں 54.84 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو 24-2023 میں بڑھ کر 101.37 کروڑ روپے اور 2024-25 میں 144.34 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ پچھلے مالی سال، 2025-26 میں، یہ 172.29 کروڑ روپے تھا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد