
پریاگ راج، 06 جولائی (ہ س): الہ آباد ہائی کورٹ نے پیر کو مرکزی حکومت اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کو ہدایت دی کہ وہ ایک عرضی کے بارے میں جوابی حلف نامہ داخل کریں جس میں تاج محل کمپلیکس کا سروے کرنے کے لیے ایڈوکیٹ کمشنر کی تقرری کی درخواست کی گئی ہے، اس دعوے کی بنیاد پر کہ 'تیجو مہالیہ' مندر وہاں موجود ہے۔ مخالف فریق پنکج کمار ورما کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
جسٹس روہت رنجن اگروال نے یہ حکم 'لارڈ شری اگریشور مہادیو ناگناتھیشور ویراجمان تیجو مہالیہ مندر' اور ہری شنکر جین سمیت دیگر کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جاری کیا۔
آگرہ سول کورٹ (سول جج، سینئر ڈویڑن) میں 2015 سے ایک اعلانیہ مقدمہ زیر التوا ہے۔ اس مقدمے میں یہ اعلان طلب کیا گیا ہے کہ 'لارڈ شری اگریشور مہادیو ناگناتھیشور ویراجمان تیجو مہالیہ مندر' آگرہ کے تاج محل کمپلیکس کے اندر واقع ہے۔ جب کہ مرکزی مقدمہ زیر التواءتھا، درخواست گزاروں نے ایک درخواست دائر کی جس میں متنازعہ جگہ کا سائنسی سروے اور فوٹو گرافی کرنے کے لیے ایک ایڈوکیٹ کمشنر کی تقرری کا مطالبہ کیا گیا۔ سول جج (سینئر ڈویڑن) آگرہ نے ایڈوکیٹ کمشنر کی تقرری کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ اس کے بعد، نظر ثانی کی درخواست دائر کی گئی، لیکن ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے اسے ناقابل غور قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اس نظرثانی درخواست میں دونوں عدالتوں کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ ہری شنکر جین نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہائی کورٹ میں پیش ہوتے ہوئے دلیل دی کہ ٹرائل کورٹ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج نے ایڈوکیٹ کمشنر کی تقرری اور فوٹو گرافی کرانے کی درخواست کو غلط طور پر مسترد کر دیا ہے، جب کہ پورے تنازع کے درست اور حتمی حل کے لیے احاطے کا سروے اور زمینی حقیقت کی وضاحت بہت ضروری ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی