کولکاتا کی آئی ٹی کمپنی پر ای ڈی کا شکنجہ، غیر ملکی شہریوں سے 20 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کا الزام
کولکاتا، 4 جولائی (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے کولکاتا میں قائم انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی وی آر ایم بزنس سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ اور اس کے ڈائریکٹر راجیش گوئنکا سمیت دیگر ملزمان کے خلاف پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے)، 2002 کے
کولکاتا کی آئی ٹی کمپنی پر ای ڈی کا شکنجہ، غیر ملکی شہریوں سے 20 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کا الزام


کولکاتا، 4 جولائی (ہ س)۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے کولکاتا میں قائم انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی وی آر ایم بزنس سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ اور اس کے ڈائریکٹر راجیش گوئنکا سمیت دیگر ملزمان کے خلاف پریوینشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے)، 2002 کے تحت خصوصی عدالت میں چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔ ایجنسی نے ہفتہ کو جاری اپنے بیان میں بتایا کہ کمپنی کے احاطے سے ایک غیر قانونی کال سینٹر چلایا جا رہا تھا، جہاں سے غیر ملکی شہریوں کے ساتھ کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کی گئی۔

ای ڈی نے جمعہ کو جاری بیان میں بتایا کہ اس سے قبل تفتیش کے دوران 2.35 کروڑ روپے مالیت کے منقولہ اثاثے اور بینک کھاتے ضبط اور منجمد کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ 11.14 کروڑ روپے مالیت کی غیر منقولہ جائیدادیں بھی عارضی طور پر ضبط کی گئی تھیں۔

تحقیقی ایجنسی کے مطابق، یہ معاملہ الیکٹرانکس کمپلیکس بیدھان نگر تھانے میں درج ایف آئی آر کی بنیاد پر شروع کیا گیا تھا۔ شکایت میں الزام لگایا گیا تھا کہ راجیش گوئنکا اور دیگر ملزمان معروف سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے نمائندے بن کر غیر ملکی صارفین کو فون کرتے تھے، مختلف بہانوں سے ان سے رقم وصول کرتے تھے اور وعدہ کی گئی خدمات فراہم نہیں کرتے تھے۔

ای ڈی کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ وی آر ایم بزنس سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ اور اس کے ڈائریکٹر راجیش گوئنکا نے غیر قانونی کال سینٹر چلانے کے لیے ضروری بنیادی سہولیات فراہم کی تھیں۔ یہاں سے کام کرنے والے کال سینٹر کے ملازمین سافٹ ویئر خدمات فراہم کرنے کے نام پر غیر ملکی شہریوں کے ساتھ دھوکہ دہی کرتے تھے۔

ایجنسی کے مطابق، ملزم کمپنی اور اس کے ڈائریکٹروں نے غیر ملکی شہریوں کے ساتھ فراڈ کر کے کم از کم 20.35 کروڑ روپے حاصل کیے۔ اس رقم کو زیورات خریدنے، غیر منقولہ جائیدادیں حاصل کرنے اور دیگر سرمایہ کاریوں میں استعمال کیا گیا۔ تحقیقات میں راجیش گوئنکا اور ان کی کمپنی کو جرم سے حاصل شدہ رقم کا اہم ترین فائدہ اٹھانے والا قرار دیا گیا ہے، جبکہ کال سینٹر کے آپریٹرز اور ملازمین بھی اس غیر قانونی آمدنی سے مستفید ہونے والوں میں شامل تھے۔

ای ڈی نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ راجیش گوئنکا کی سرپرستی میں چلنے والا یہ غیر قانونی نیٹ ورک منظم طریقے سے غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بناتا تھا۔ ملزمان معروف ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نمائندے بن کر انٹرنیٹ پر مبنی ٹیلی فون سروسز کے ذریعے غیر ملکی شہریوں سے رابطہ کرتے تھے، انہیں جھوٹے بہانوں سے خوفزدہ اور ہراساں کرتے تھے، اور گفٹ واؤچرز، تکنیکی معاونت، رکنیت ختم کرنے جیسی فرضی خدمات کے نام پر ادائیگی کرنے پر آمادہ کرتے تھے۔ اس کے نتیجے میں غیر ملکی شہریوں کو مالی نقصان پہنچا، جبکہ ملزمان نے غیر قانونی طور پر کروڑوں روپے کمائے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالواحد


 rajesh pande