
نئی دہلی، 4 جولائی (ہ س)۔ دہشت گردی کے خلاف مودی حکومت کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کے ایک حصے کے طور پر، وزارت داخلہ نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ، 1967 (یو اے پی اے) کے تحت مزید 23 افراد کو دہشت گرد نامزد کیا ہے۔ اس کارروائی سے یو اے پی اے کے فورتھ شیڈول کے تحت نامزد دہشت گردوں کی تعداد 80 ہو گئی ہے۔ 23 نامزد دہشت گردوں میں سے 17 پاکستانی شہری اور چھ ہندوستانی شہری ہیں۔
وزارت داخلہ نے کہا کہ ان دہشت گردوں کی باضابطہ نامزدگی سے ان کے مالیاتی نیٹ ورک، نقل و حرکت، بھرتی کی صلاحیت اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکنے میں مدد ملے گی اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کو مزید تقویت ملے گی۔
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ دہشت گردی کے تئیں وزیر اعظم نریندر مودی کے ’زیرو ٹالرنس‘ نقطہ نظر کو آگے بڑھاتے ہوئے، ممنوعہ تنظیموں سے تعلق رکھنے والے 23 خوفناک دہشت گردوں کو یو اے پی اے کے تحت دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گرد ہندوستان مخالف سرگرمیوں، دہشت گردانہ حملوں، ہتھیاروں کی اسمگلنگ، سرحد پار سے دراندازی، دہشت گرد تنظیموں کی حمایت، فنڈ اکٹھا کرنے اور دہشت گردوں کو بھرتی کرنے میں ملوث رہے ہیں۔ شاہ نے کہا کہ مودی حکومت ہندوستان اور اس کے شہریوں کی سلامتی کے لیے ہر دہشت گرد ماڈیول کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔وزارت کے مطابق 23 نامزد دہشت گردوں میں 17 پاکستانی اور چھ ہندوستانی شہری شامل ہیں۔ یہ سبھی اس وقت پاکستان یامقبوضہ جموں و کشمیر (پی او کے) سے بھارت مخالف دہشت گرد سرگرمیاں انجام دے رہے ہیں۔
پاکستانی دہشت گردوں میں مسعود الیاس کشمیری، محمد مصدق، مفتی محمد اصغر خان، حافظ عبدالشکور، عبداللہ جہادی، غلام فرید، اشفاق احمد، مولانا امداد اللہ مکی، اور وسیم نور جٹ شامل ہیں، جن کا تعلق جیش محمد (جے ای ایم) سے ہے۔ عبدالرو¿ف، حافظ خالد ولید، مولانا سیف اللہ خالد، محمد یعقوب، مولانا یوسف طیبی، قاری یعقوب شیخ، رانا افتخار، اور محمد شہید فیصل لشکر طیبہ (ایل ای ٹی)، جماعت الدعوة (جے یو ڈی)، فلاح مسلم لیگ (پاکستان)، مسلم لیگ (ن)، پاکستان مسلم لیگ (ن) القاعدہ، اور داعش جیسی تنظیموں سے منسلک ہیں۔
بھارتی دہشت گردوں میں فردوس احمد بھٹ، ہارون رشید گنائی، بلال احمد میر، عابد قیوم لون، نذیر احمد گجر اور اویس فروز شامل ہیں۔ ان میں فردوس احمد بھٹ، ہارون رشید گنائی، عابد قیوم لون، نذیر احمد گجر، اور اویس فروز لشکر طیبہ سے وابستہ ہیں، جب کہ بلال احمد میر لشکر طیبہ کے ساتھ ساتھ مزاحمتی محاذ (ٹی آر ایف) سے وابستہ ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ تمام ہندوستانی شہری اس وقت پاکستان یا پی او کے سے دہشت گردانہ سرگرمیاں چلا رہے ہیں۔وزارت نے کہا کہ ان دہشت گردوں کو فہرست میں شامل کرنے کا مقصد ان کے دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنا، ان کے مالی وسائل کو منقطع کرنا، ان کی بھرتی اور نقل و حرکت کی صلاحیتوں کو ختم کرنا اور دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے قانونی اور سیکورٹی ردعمل کی تاثیر کو بڑھانا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan