
میہر، 04 جولائی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے میہر ضلع میں بیل کو بچانے کی کوشش تین گاوں والوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ امرپاٹن تھانہ علاقے کے کھرامسیڑا گاوں میں واقع اہیران ٹولہ میں جمعہ کی رات تقریباً 8.30 بجے 35 فٹ گہرے کنویں میں گرے بیل کو نکالنے کے دوران زہریلی گیس اور آکسیجن کی کمی سے چار گاوں والے بے ہوش ہو گئے۔ ان میں سے تین کی موت ہو گئی، جبکہ ایک کی حالت سنگین ہونے پر اسے ستنا ضلع اسپتال ریفر کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق، گاوں کے کشواہا خاندان کے کنویں میں بیل گر گیا تھا۔ اسے نکالنے کے لیے سب سے پہلے دو گاوں والے رسی کے سہارے کنویں میں اترے۔ کچھ دیر بعد دونوں کی آواز آنا بند ہو گئی۔ انہیں مصیبت میں دیکھ کر دو دیگر گاوں والے بغیر کسی حفاظتی آلات کے انہیں بچانے کے لیے کنویں میں اتر گئے، لیکن وہ بھی زہریلی گیس اور آکسیجن کی کمی کی زد میں آ کر بے ہوش ہو گئے۔ کافی دیر تک کوئی ہلچل نہیں ہونے پر گاوں والوں کو کسی انہونی کا خدشہ ہوا۔ انہوں نے رسیوں کی مدد سے چاروں کو باہر نکالا اور ڈائل-112 پولیس کو اطلاع دی۔ سبھی کو فوراً امرپاٹن سول اسپتال پہنچایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تین لوگوں کو مردہ قرار دے دیا۔ چوتھے دیہاتی کو ابتدائی علاج کے بعد نازک حالت میں ستنا ضلع اسپتال ریفر کیا گیا۔ امرپاٹن تھانہ انچارج وجے سنگھ پارستے نے بتایا کہ کنویں میں گھٹنوں تک پانی بھرا تھا۔ ابتدائی جانچ میں زہریلی گیس اور آکسیجن کی کمی سے دم گھٹنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایس ڈی او پی کھیاتی مشرا نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد موت کی حقیقی وجوہات کی تصدیق ہوگی۔ پولیس نے مرگ قائم کر کے معاملے کی جانچ شروع کر دی ہے۔ ہلاک شدگان میں راہل یادو (34) ولد موتی لال یادو، ویریندر یادو (47) ولد جگدیش پرساد یادو، کرشن کمار یادو (28) ولد رام داس یادو اور سنگین زخمی میں رام چندر یادو (42) ولد بھانو پرساد یادو شامل ہیں، جن کا ستنا ضلع اسپتال میں علاج جاری ہے۔
اس واقعے کے بعد پورے کھرامسیڑا گاوں میں سوگ کی لہر ہے۔ ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہے۔ اس حادثے نے ایک بار پھر بغیر حفاظتی آلات اور گیس کی جانچ کے کنویں میں اترنے کے خطرے کو اجاگرکردیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن