
نئی دہلی، 4 جولائی (ہ س)۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ جے رام رمیش نے کہا کہ پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس میں پارٹی کئی مسائل اٹھائے گی، جن میں خارجہ پالیسی، بہار میں اسپیشل انسینٹیو رویژن(ایس آئی آر)، الیکشن کمیشن کے کام کاج، حد بندی، ایک ملک، ایک انتخاب، اور ایودھیا رام مندر میں عطیات میں مبینہ بے ضابطگیاں شامل ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک کے جمہوری اداروں اور انتخابی نظام پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں، جب کہ حکومت اہم ایشوز پر بات کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
ہفتہ کے روز یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے جے رام رمیش نے کہا کہ کانگریس ریاستوں میں تنظیمی میٹنگوں کا انعقاد کرتے ہوئے آئندہ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ 24 سیاسی جماعتوں اور آزاد رکن پارلیمنٹ کپل سبل نے چیف جسٹس کو خط لکھ کر بہار میں ایس آئی آر کے عمل اور الیکشن کمیشن کے کام کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لاکھوں لوگوں کو ووٹر لسٹوں سے نکالا جا رہا ہے جس سے انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ سپریم کورٹ اس معاملے میں مناسب مداخلت کرے گی۔
لوک سبھا سیٹوں کی حد بندی کے مسئلہ پر جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ بی جے پی کا اصل مقصد دو تہائی اکثریت حاصل کرکے آئین میں ترمیم کرنا ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں متوقع کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے بعد بی جے پی اب سیاسی انتقامی سیاست کا سہارا لے رہی ہے۔ بی جے پی سماجی انصاف اور ریزرویشن جیسے مسائل سے بچنا چاہتی ہے۔
الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال، بہار، مہاراشٹرا اور ہریانہ میں کمیشن کے کام کاج نے اس کی غیر جانبداری پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے قبل کل جماعتی اجلاس کو محض رسمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اپوزیشن کی بات سنتی ضرورہے لیکن ایجنڈا وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کا دفتر طے کرتا ہے۔ حکومت ایک بار پھر مانسون اجلاس میں حد بندی بل اور ایک ملک، ایک انتخاب سے متعلق تجاویز پیش کر سکتی ہے۔
ایودھیا رام مندر میں چندہ کی بے ضابطگیوں کا ذکر کرتے ہوئے رمیش نے کہا کہ بھگوان رام کے نام پر امداد اور چندہ اکٹھا کیاگیا، لیکن اب عطیات کے غلط استعمال کے الزامات سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کیدارناتھ اور بدری ناتھ میں بھی ایسے ہی معاملات سامنے آئے ہیں اور ان کی غیر جانبداری سے تحقیقات ہونی چاہئے۔
خارجہ پالیسی پر مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے رمیش نے کہا کہ ہندوستانی سیکورٹی فورسز نے آپریشن سندور میں کامیابیاں حاصل کیں لیکن ہندوستان کو سفارتی محاذ پر دھچکا لگا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور پاکستان کی عسکری قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی قربتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی سطح پر اپنی اہمیت دوبارہ حاصل کر رہا ہے۔ چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور امریکہ کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت گزشتہ کئی سالوں سے چین اور خارجہ پالیسی سے متعلق اہم معاملات پر پارلیمنٹ میں بحث کرنے سے گریز کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ