یوگی حکومت بنکروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم، الیکٹرسٹی فلیٹ ریٹ اسکیم میں اصلاحات پر سنجیدگی سے غور
لکھنو، 28 جولائی (ہ س)۔ یوگی حکومت ریاست کے بنکروں کے مفادات کے تحفظ، ان کے مسائل کے حل اور ہینڈلوم و پاور لوم انڈسٹری کو نئی مضبوطی فراہم کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں منگل کے روز کھادی اینڈ گرام ادیوگ بورڈ، کھادی بھون، ڈالی باغ،
بنکروں کی ترقی کے لیے میٹنگ کرتے وزراء


بنکروں کی ترقی کے لیے میٹنگ کرتے وزراء اور موجود افسران


لکھنو، 28 جولائی (ہ س)۔ یوگی حکومت ریاست کے بنکروں کے مفادات کے تحفظ، ان کے مسائل کے حل اور ہینڈلوم و پاور لوم انڈسٹری کو نئی مضبوطی فراہم کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں منگل کے روز کھادی اینڈ گرام ادیوگ بورڈ، کھادی بھون، ڈالی باغ، لکھنو کے میٹنگ ہال میں ریاست کے کھادی اینڈ گرام ادیوگ، ریشم، ہتھ کرگھا اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے وزیر راکیش سچان کی صدارت میں ہتھ کرگھا محکمہ کی ’اٹل بہاری واجپئی پاور لوم بنکر الیکٹرسٹی فلیٹ ریٹ اسکیم‘ کے سلسلے میں ریاست کے بنکر نمائندوں کے ساتھ ایک اہم میٹنگ منعقد کی گئی۔

میٹنگ میں اسٹامپ نیز کورٹ فیس و رجسٹریشن کے لیے ریاستی وزیر (آزادانہ چارج) رویندر جیسوال اور اقلیتی بہبود، مسلم وقف و حج کے ریاستی سکریٹری دانش آزاد انصاری بھی موجود رہے۔ میٹنگ میں ریاست کے مختلف اضلاع سے آئے بنکر نمائندوں نے بجلی کے نرخوں، فلیٹ ریٹ اسکیم، بجلی کے بلوں کی غلطیوں، بقایا رقم، سبسیڈی، لوڈ میں اضافے، میٹرنگ اور نئے بجلی کنکشن سے متعلق مسائل اور تجاویز کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا۔

میٹنگ میں بنکروں کے فائدے کے لیے چلائی جا رہی ’اٹل بہاری واجپئی پاور لوم بنکر الیکٹرسٹی فلیٹ ریٹ اسکیم‘ کے دائرے کو موجودہ صفر سے 5 کلوواٹ سے بڑھا کر صفر سے 20 کلوواٹ تک کرنے کی تجویز پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس دوران یہ بات بھی واضح کی گئی کہ صفر سے 5 کلوواٹ کے زمرے کے بنکروں کے لیے موجودہ نظام میں کسی قسم کی منفی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔ مجوزہ توسیع سے 5 سے 20 کلوواٹ کی صلاحیت والے پاور لوم بنکروں کو بھی اسکیم کا فائدہ ملنے کی راہ ہموار ہوگی۔

میٹنگ میں بتایا گیا کہ ریاست میں تقریباً 95 ہزار سے زیادہ بجلی کے کنکشن صفر سے 5 کلوواٹ کے زمرے میں ہیں، جو کل پاور لوم کنکشنوں کا تقریباً 94 فیصد ہیں۔ بنکر نمائندوں نے چھوٹے بنکروں کے مفادات کو ترجیح دینے، انہیں بڑے بنکروں سے الگ زمرے میں رکھنے اور بجلی کے نرخوں میں مزید راحت فراہم کرنے کا مطالبہ رکھا۔ نمائندوں نے کہا کہ اسکیم کی 20 کلوواٹ تک توسیع کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔

میٹنگ میں الیکٹرسٹی فلیٹ ریٹ اسکیم کے مالی پہلوؤں پر بھی بات چیت ہوئی۔ فی الحال 0 سے 5 کلوواٹ کے زمرے کے بنکروں کو اسکیم کا فائدہ فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ہر سال تقریباً 600 کروڑ روپے کا مالی بوجھ برداشت کیا جا رہا ہے۔ اسکیم کی 5 سے 20 کلوواٹ تک توسیع کرنے پر تقریباً 189 کروڑ روپے کے اضافی سالانہ مالی بوجھ کا تخمینہ ہے۔ اس طرح اسکیم کی توسیع کے بعد حکومت کی کل سالانہ مالی ذمہ داری تقریباً 789 کروڑ روپے ہو سکتی ہے۔

بنکر نمائندوں نے بجلی کے بلوں اور بقایا جات میں تضادات کے مسائل کو نمایاں طور پر اٹھایا۔ میٹنگ میں سال 2006 کی پالیسی کے تحت 31 مارچ 2023 تک واجب الادا فوائد، پرانے بقایا بلوں، تاخیر سے ادائیگی کے سرچارج اور سود سے متعلق مسائل پر بات چیت کی گئی۔ بنکروں نے بتایا کہ کئی معاملات میں حکومت کی طرف سے سبسیڈی فراہم کیے جانے کے باوجود بجلی کے بلوں میں بڑی بقایا رقم ظاہر ہو رہی ہے۔

میٹنگ میں اس بات پر غور کیا گیا کہ اپریل 2023 سے پہلے کی مدت سے متعلق بقایا بلوں کا تصفیہ کیا جائے اور بقایا رقم کی ادائیگی کے لیے سود اور تاخیر سے ادائیگی کے سرچارج میں راحت دیتے ہوئے اقساط میں ادائیگی کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس کے ساتھ ہی بقایا بلوں کے تصفیے کے لیے ’ون ٹائم سیٹلمنٹ اسکیم‘ (یک مشت تصفیہ اسکیم) نافذ کرنے کی تجویز پر بھی بات چیت ہوئی۔

میٹنگ میں یہ بھی تجویز کیا گیا کہ اگست کے مہینے میں خصوصی مہم چلا کر بنکروں کے بجلی بلوں کے مسائل کا ضلع سطح پر حل نکالا جائے۔ اس مہم کے تحت بنکر اپنے بجلی کے بل لے کر متعلقہ ضلع کے محکمہ بجلی کے دفتر پہنچیں گے، جہاں بلوں کی جانچ اور ضروری ترمیم کر کے تفصیلات کو مرکزی سطح پر بھیجا جائے گا۔ متوفی یا طویل عرصے سے غیر فعال کنکشن سے متعلق بقایا رقم کی جانچ کر کے مناسب کارروائی کرنے پر بھی غور و خوض ہوا۔

وزیر راکیش سچان نے بنکر نمائندوں کے مسائل اور تجاویز کو سنجیدگی سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ یوگی حکومت بنکروں کے مفادات کے تحفظ اور ان کی مالی بااختیاری کے لیے پرعزم ہے۔ حکومت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ الیکٹرسٹی فلیٹ ریٹ اسکیم کا فائدہ زیادہ سے زیادہ مستحق بنکروں تک پہنچے اور چھوٹے بنکروں پر غیر ضروری مالی بوجھ نہ پڑے۔

انہوں نے کہا کہ بنکروں کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز، محکمہ بجلی کے اعداد و شمار اور اسکیم کے مالی پہلووں کا مجموعی جائزہ لے کر عملی اور بنکر بخش فیصلہ لیا جائے گا۔ بجلی کے بلوں کی غلطیوں، پرانے بقایا جات، سبسیڈی کی ایڈجسٹمنٹ، لوڈ میں اضافے اور کنکشن سے متعلق مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کے ساتھ رابطہ قائم کیا جائے گا۔

میٹنگ میں پرنسپل سکریٹری انیل کمار ساگر سمیت محکماتی حکام، محکمہ بجلی کے افسران اور ریاست کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے بنکر نمائندے موجود رہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande