
جموں, 28 جولائی (ہ س)۔ جموں کے قریب نگروٹہ کی جگتی کالونی میں رہائش پذیر تقریباً 20 ہزار بے گھر کشمیری پنڈت خستہ حال سرکاری کوارٹروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ رہائشیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عمارتوں کی فوری مرمت کرائی جائے کیونکہ موجودہ حالت میں وہ ہر وقت کسی بڑے حادثے کے خدشے کے سائے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق 1990 میں وادی کشمیر سے بے گھر ہونے والے کشمیری پنڈتوں کی بازآبادکاری کے لیے 2011 میں جگتی کالونی تعمیر کی گئی تھی، جہاں 127 بلاکس میں 4200 کوارٹر بنائے گئے۔ تاہم، رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے ان عمارتوں کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی گئی، جس کے باعث بیشتر کوارٹر خستہ حالی کا شکار ہو چکے ہیں۔
رہائشیوں کے مطابق بارش کے دوران اوپری منزلوں کی چھتوں سے پانی ٹپکتا ہے، دیواروں اور چھتوں سے سیمنٹ جھڑنے کا خدشہ رہتا ہے، جبکہ کئی کوارٹروں کی بالکونیاں، کھڑکیاں اور غسل خانے بھی خراب حالت میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متعدد بار انتظامیہ کو اس مسئلے سے آگاہ کیا گیا، لیکن اب تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔
تنظیم پنُن کشمیر کے سینئر رہنما ایم کے دھر نے کہا کہ کالونی کی مرمت کے مطالبے پر کئی بار احتجاج کیا جا چکا ہے اور حال ہی میں وزیراعظم کے دفتر کو بھی ایک یادداشت پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے جلد اقدامات نہ کیے تو وہ احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
کالونی کے رہائشیوں نے بتایا کہ عمارتوں کی خستہ حالت کے باعث وہ ہر وقت خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔ ان کے مطابق سڑکیں، پارک اور پینے کے پانی کی سہولیات بھی ناقص ہیں، جس سے روزمرہ زندگی مزید دشوار ہو گئی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رہائشیوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری بنیادوں پر مرمتی کام شروع کیا جائے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر