وردھا میں نایاب سفید بلبل کی موجودگی ریکارڈ، ضلع میں پہلی مرتبہ دیکھے جانے کا دعویٰ
وردھا میں نایاب سفید بلبل کی موجودگی ریکارڈ، ضلع میں پہلی مرتبہ دیکھے جانے کا دعویٰماہرین کے مطابق کہ عمومی طور پر تقریباً 30 ہزار پرندوں میں سے صرف ایک پرندہ البینو ہوتا ہےوردھا ، 27 جولائی (ہ س) قدرت کے رنگ، بناوٹ اور حیاتیاتی تنوع ہمیشہ انسا
ENVIRONMENT WARDHA ALBINO BULBUL


وردھا میں نایاب سفید بلبل کی موجودگی ریکارڈ، ضلع میں پہلی مرتبہ دیکھے جانے کا دعویٰماہرین کے مطابق کہ عمومی طور پر تقریباً 30 ہزار پرندوں میں سے صرف ایک پرندہ البینو ہوتا ہےوردھا ، 27 جولائی (ہ س) قدرت کے رنگ، بناوٹ اور حیاتیاتی تنوع ہمیشہ انسان کو حیران کرتے رہے ہیں۔ جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ فطرت کا مشاہدہ ایک مسلسل عمل ہے، جو ہر بار نئی معلومات سے روشناس کراتا ہے۔ اسی لیے بعض پرندوں اور جانوروں کو انتہائی نایاب قرار دیا جاتا ہے، جبکہ کئی اقسام معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ایسے میں ان کی نگرانی، تحقیق اور تحفظ غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔اسی تناظر میں مہاراشٹر کے ضلع وردھا کے علاقائی جنگلاتی علاقے میں پہلی مرتبہ نہایت نایاب سفید بلبل (البینو بلبل) دیکھے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے، جسے جنگلی حیات کے شعبے میں ایک اہم دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔مہاتما گاندھی بین الاقوامی ہندی یونیورسٹی کے شعبۂ بشریات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور جنگلی حیات کے محقق ڈاکٹر وریندر پرتاپ یادو اتوار کو اپنے ساتھی فطرت دوستوں ڈاکٹر پیوش پتنجلی اور سمیر اوستھی کے ساتھ معمول کے مطابق پرندوں کا مشاہدہ کر رہے تھے۔ اسی دوران انہیں سڑک پر چند پرندے بیٹھے دکھائی دیے۔ گاڑی قریب پہنچنے پر تمام پرندے اڑ کر سڑک کنارے جھاڑیوں پر جا بیٹھے، جہاں ڈاکٹر یادو کی نظر ایک مکمل سفید رنگ کے غیر معمولی پرندے پر پڑی۔اپنے شبہ کی تصدیق کے لیے ڈاکٹر یادو اس پرندے کے قریب گئے۔ انہوں نے دم کے نیچے موجود سرخی مائل نشان کی بنیاد پر اندازہ لگایا کہ یہ نایاب البینو بلبل ہے۔ تصدیق کے لیے انہوں نے موبائل فون سے لی گئی تصویر فوری طور پر وردھا ضلع کے جنگلاتی تحقیقی مرکز کے فارسٹ گارڈ اور پرندوں کے ماہر منیش کمار لنگورام سجن کو ارسال کی، جنہوں نے بھی اس کی شناخت کی توثیق کی۔ڈاکٹر وریندر پرتاپ یادو نے بتایا کہ عمومی طور پر تقریباً 30 ہزار پرندوں میں سے صرف ایک پرندہ البینو ہوتا ہے، جبکہ بلبل کی نسل میں یہ پیدائشی کیفیت اس سے بھی زیادہ نایاب سمجھی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پرندوں میں جینیاتی تغیر کے باعث جسم میں قدرتی رنگ پیدا کرنے والا مادہ میلینن بننا بند ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں پرندے کا جسم مکمل طور پر سفید ہو جاتا ہے۔ یہ ایک نایاب پیدائشی کیفیت ہے، جو والدین سے منتقل ہونے والے جینیاتی عوامل کے باعث پیدا ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق جن پرندوں کے پر مکمل طور پر سفید ہوں انہیں مکمل البینو کہا جاتا ہے، جبکہ اگر جسم کا کچھ حصہ سفید ہو تو اسے جزوی البینو کہا جاتا ہے۔ ایسے پرندوں کی آنکھیں، چونچ اور پنجے عموماً گلابی یا سرخی مائل رنگ کے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر وریندر پرتاپ یادو کے مطابق ضلع وردھا میں پہلی مرتبہ اس نایاب البینو بلبل کی باضابطہ ریکارڈنگ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پرندے کو دیکھنا خود ایک خوش قسمتی ہے اور اس لمحے کو کیمرے میں محفوظ کرنا ان کی زندگی کے یادگار ترین لمحات میں شامل رہے گا۔ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande